کمپوسٹ کیوں بنائی جاتی ھے یہ سمجھنا بہت ضروری ھے۔ زمین کے اندر جو مختلف بیماریوں کے جراثیم موجود ھوتے ھیں جب وہ کثیر تعداد ایک سازگار ماحول ھونے کی وجہ سے بنالیتے ھیں تو صحتمند جراثیم کو بہت کمزور کردیتے ھیں۔ اب اگر ان کمزور صحتمند جراثئم کو جتنی بھی خوراک سلفر یا ھیومک ایسڈ کی شکل میں دی جائے یہ زیادہ عرصہ تک مخالف جراثئم کا مقابلہ کرسکنے اور انہیں ختم کردینے کی اھلیت حاصل نہیں کرپاتے
کیونکہ
یہ زمین ڈپریس سوائیل کہلاتی ھیں یعنی کے جنگ ھاری ھوئی زمین جن پر دشمن جراثیم حکمران ہوں۔ اس کا علاج کیسے کیا جا سکتا ھے؟
اس کیلئے سب سے موثر اور قابل عمل علاج ایک ایسی جراثئمی فوج تیار کرنا ھے جو ایک بہت اچھے قدرتی ماحول میں جیت جیت کر اس قابل ھوچکی ھو کہ وہ اپنے مخالف جراثیم کی کمزوریوں کو سمجھتے ھوئے اسے مارنے کی مکمل اھلیت حاصل کرچکی ھو۔ اس کو اگر اس بیمار زمین میں داخل کیا جائے تو وہ اس کے اندر موجود تمام بیماریوں کو ختم کردے اور دوست صحتمند جراثیم کی ایک حکومت قائم کر سکے۔ جس کی بدولت دوسرے صحتمند دوست کیڑے اور فنگس بھی اپنی آبادی بڑھا سکیں اور زمین مستقل طور پر بیماریوں کے خلاف لڑتے رھنے کے قابل ھو جائے۔
اس کا حل کیا ھے؟؟
ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی بھی قدرتی سبز کچرا کسی اندھیری جگہ پر دبا دیا جائے تو اس کے اندر تبخیر کا عمل شروع ھو جاتا ھے جس کی وجہ سے قدرتی طور پر سرکہ کی نسل سے تعلق رکھنے والے آرگینک تیزاب پیداھوتے ھیں جو کہ بہت سارے قدرتی ھارمونز اور انزائیمز جراثیمز کی وجہ سے پیدا کرنے کی اھلیت رکھتے ھیں۔
اور اگر اس میں گوبر شامل کر دیا جائے تو جانورں کی آنتوں میں موجود صحتمند جراثیم گوبر میں شامل ھونے کی وجہ سے چارے کے غیر ھضم شدہ خوراک اور فصلوں کے سبز کچرے کے ساتھ مل کر یہی عمل زیادہ تیزی سے کر دیتے ھیں مگر ان کی صلاحیت وھی ھوتی ھے جو ان جانورں کی ان بیماریوں کے خلاف قدرتی طور پر لڑنے کی ھوتی ھے۔
اس کو مؤثر ترین کیسے بنایا جائے؟؟
ہم اگر اس سارے کمپوسٹ میٹیریل میں ایک یا ایک سے زیادہ قسم کی ایسے جراثیم داخل کر دیں جو ایسی صحتمند زمینوں سے جدید بائیو ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے حاصل کیے گئےھوں جو ان زمینی بیماریوں سے لڑنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ھوں تو یہ کمپوسٹنگ کے عمل میں یہ خاص جراثیم بیماری کے جراثیموں اور فنگس کو مار کر ایک ایسی نسل کے نئے جراثیم تیار کر دیں گے جو ان بیماریوں کے خلاف ایک ویکسئین کا کام کر سکے۔ یعنی اس زمین کی قوتِ مدافعت بڑھا دےاور ایک ایسی ویکسین تیار کر دے جو ھر زمین کے اندر موجود بیماریوں کے خلاف بہت موثر کام کر سکے۔
یہ کیسے کیا جائے؟؟ یعنی
کمپوسٹنگ کے ذریعہ سوائیل کنڈیشنگ
(آسان، سستا اور مؤثر ترین طریقہ)
(آسان، سستا اور مؤثر ترین طریقہ)
ایک ڈرم میں گڑ کا شیرا دس کلو یا بیس کلو راب ڈال کر اس میں بیس گرام بیسیلس لیٹروسپورس (یونی گرو سوائیل کنڈیشنر) ڈال کر ایک دو دن پڑا رھنے دیں۔ اگر گڑ نہ ڈالنا ھو تو گوبر آدھا ڈرم لے لیں اور اس میں وھی پراڈکٹ ڈال کر ایک ھفتہ پڑا رھنے دیں۔
اس دوران اس کے اندر ایک ایسے جراثیم کی فوج تیار ھو چکی ھو گی جو ھر قسم کے بیماری پھیلانے والے جراثیموں سے لڑ سکتی ھے۔ اب اگر اس میں بیمار زمین کی مٹی ایک دو کلو اور بیمار فصلوں کے باقیات جن میں بیماری کی زیادہ سے زیادہ موجودگی ھو وقتاً فوقتاً باریک کاٹ کر ڈالیں اور ھلاتے رھیں تو ایسی ویکسین تیار ہو جائے گی جو ھر زمین کے اندر موجود بیماریوں کے خلاف بہت موثر کام کر سکے۔
اس ڈرم کو جتنا عرصہ مرضی پڑا رھنے دیں یہ بہتر ھی ھوگا خراب نہیں ھوگا۔ صرف اس میں پانی کا خیال رکھیں کم نہ ھونے دیں۔
اس ڈرم کو کم از کم ایک ماہ کے بعد اسی بیمار زمین میں فلڈ کر دیں اور آدھا پانی فصلوں پر سپرے کرتے رھیں۔ اس سے بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بہت بڑھ جائے گی۔
زمین کے اندر صحتمند جراثئیم کی افزائش تیزی سے بڑھ جائے گی اور پی ایچ کم ھو جائے گی۔ ناقابل حصول مائیکرو اور میکرو نیوٹرنٹس کی حصولگی بھی بڑھ جائے گی۔
رانا تنویر ضیاء+92 300 8749101
