trichogramma card benefits in sugarcane

مذکورہ لیبارٹری کے انچارج محمد علی نے سجاگ کو بتایا کہ یہاں کسان دوست کیڑے ٹرائیکو گراما اور

کرائسو پرلا کی افزائش کی جاتی ہے۔
کسان دوست کیڑے فصل کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں، ان کے بچوں اور انڈوں کو کھا لیتے ہیں جس سے فصل نقصان دہ کیڑوں سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ جن فصلوں میں کسان دوست کیڑوں کو چھوڑا جائے اس میں کیڑے مار سپرے کی کم ہی ضرورت پڑتی ہے۔
146کیڑوں کے انڈوں سے جب بچے نکلنے والے ہوتے ہیں تو اُنہیں کارڈز پر لگا کر کسانوں اور کاشت کاروں کو دے دیے جاتے ہیں۔ ایک کارڈ پر پچیس سے تیس انڈے لگائے جاتے ہیں۔ ایک ایکڑ رقبے پر مشتمل فصلوں میں چھ کارڈز لگائے جاتے ہیں۔145
انہوں نے بتایا کہ کسان ان کیڑوں کے انڈوں پر مشتمل کارڈز کو فصل کے پتوں کے نیچے چپکا دیتے ہیں۔ جب انڈوں پر مشتمل کارڈز کو پتوں پر لگایا جاتا ہے تو اس وقت ان انڈوں سے مذکورہ کیڑوں کے بچوں کے نکلنے کا وقت قریب ہوتا ہے۔ ایک آدھ دن میں ان انڈوں سے کیڑے بن جاتے ہیں۔
کسان دوست کیڑے کارڈ پر لگا کر کاشت کاروں کو فصلوں میں لگانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
146لیبارٹری میں کیڑوں کے سالانہ آٹھ ہزار کارڈز تیار کیے جاتے ہیں جن میں پانچ ہزار کارڈ ٹرائیکو گراما اور تین ہزار کارڈ کرائسو پرلا کے شامل ہیں۔ محکمہ زراعت کی طرف سے ان تمام کارڈز کو ایک سال میں تقسیم کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے۔145
وہ بتاتے ہیں کہ مذکورہ کارڈز تیار کرنے کے لیے محکمہ زراعت کا متعلقہ عملہ پوری تندہی اور لگن سے کام کرتا ہے۔ رواں سال کے دوران اب تک سترہ سو ٹرائیکو گراما اور گیارہ سو کرائسو پرلا پر مشتمل کارڈ کسانوں اور کاشت کاروں کو دے دیے ہیں۔
ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت شہزاد صابر بتاتے ہیں کہ کسانوں اور کاشت کاروں کو محکمہ زراعت کے مشوروں پر عمل کر کے اپنا وقت اور پیسہ بچانے کے ساتھ ساتھ بھرپور پیداوار حاصل کرنی چاہیے۔
146کسان دوست کیڑے فصل تباہ کرنے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ کاشت کاروں کو چاہیے کہ وہ دشمن کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے زہریلی سپرے کرنے کی بجائے کسان دوست کیڑوں کو فصلوں میں پہنچائیں۔145
چک نمبر 339 گ ب کے پروگریسو کاشت کار محمد امین بتاتے ہیں کہ انہیں مذکورہ لیبارٹری کے متعلق تین سال قبل محکمہ زراعت کے ایک فیلڈ اسسٹنٹ کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔
محکمہ زراعت توسیع کی طرف سے سالانہ آٹھ ہزار کسان دوست کیڑے تیار کیے جاتے ہیں۔
146کسان دوست کیڑوں کے انڈوں پر مشتمل کارڈز محکمہ زراعت کی طرف سے مفت مل جاتے ہیں۔ فصلوں میں کیڑوں کے کارڈ لگانے کے باعث سپرے پر پچاس فیصد سے کم اخراجات آتے ہیں۔145
چک نمبر 378 ج ب کے ترقی پسند کاشت کار محمد عادل کہتے ہیں کہ اب جو کسان اور کاشت کار پرانے روایتی طریقوں سے فصلیں کاشت کرتا ہے وہ اتنا کامیاب نہیں ہوتا جتنا کہ محکمہ زراعت کی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والا کسان ہوتا ہے۔