ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کے باغات کارقبہ 5 لاکھ ایکڑ سے تجاوز کرگیا اور اوسط پیداوار 4.5 ٹن فی ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔انھوں نے باغبانوں کو ترشاوہ باغات کی پیداوار میں اضافہ کیلئے مؤثر نظام آبپاشی سے استفادے کی ہدایت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین نے بتایاکہ ترشاوہ پھلوں کی خاطرخواہ نشو ونما میں پانی انتہائی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ پودوں میں خوراک جڑوں سے پتوں اور دیگر حصوں تک پانی کے ذریعے ہی رسائی پاتی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ پانی پودوں میں ضیائی تالیف کالازمی جزو ہونے کے علاوہ عمل تبخیر سے پودوں کوبرے اثرات سے محفوظ رکھتاہے اس لئے باغات ایسے علاقوں میں لگائے جائیں جہاں پانی وافر مقدار میں میسر ہو تاہم ترشاوہ باغات کی کاشت کیلئے پانی کی مقدار اور وقفہ موسمی حالات ، کاشتی امور ، زمین کی خاصیت ، پھل کی قسم اور عمر کے علاوہ پتوں کی سطح جیسے عوامل پر بھی منحصر ہے۔ انہوںنے بتایاکہ موسم گرما کے دوران ماہ جون سے اگست تک پھلدار پودوں کو 10 سی15دن کے وقفہ سے پانی دینا ضروری ہے۔ انہوںنے بتایاکہ اس ضمن میں مزید رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کی خدمات سے بھی استفادہ کیاجاسکتاہے۔

Comments
Post a Comment