ہلدی کی کاشت و دیکھ بھال



ہلدی موسم گرما کی نفع بخش فصل ہے، یہ روزانہ گھر میں سالن تیار کرتے وقت استعمال ہوتی ہے۔ ہلدی نہ صرف سالن کے رنگ اور ذائقہ کو بہتر بناتی ہے بلکہ حکماء کے خیال میں یہ ہمارے خون کو بھی صاف کرتی ہے۔ کچی ہلدی کو سوجی کے ساتھ ملا کر گھی میں بھونا جائے اور مناسب مقدار میں چینی ڈال کر مٹھائی بنائی جائے اور جنوری فروری میں اس کا استعمال کیا جائے تو گرمیوں میں پھوڑے، پھنسیاں اور پِت وغیرہ نہیں نکلتیں۔ قیام پاکستان کے بعد چونکہ ہلدی کافی مقدار میں کثیر زرمبادلہ خرچ کر کے بھارت سے برآمد کی جاتی تھی اس لئے اس فصل پر تجربات شروع ہو گئے اور یہ بات ثابت ہو گئی کہ جن علاقوں میں آبپاشی کیلئے پانی باافراط میسر ہو اور گوبر کی گلی سڑی کھاد بھی کافی مقدار میں مہیا ہو وہاں ہلدی بڑی کامیابی کے ساتھ اگائی جا سکتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پنجاب میں پیدا کردہ ہلدی کو ابال کر سکھانے کے بعد اس کی خاصیتیں کسی لحاظ سے بھی ہندوستانی ہلدی سے کم نہیں۔ اتنی کامیابی کے باوجود ہمارے ملک میں ہلدی کا رقبہ محدود رہا اور ہلدی کی بیشتر ضروریات مشرقی پاکستان سے پوری کی جاتی رہیں لیکن سقوط ڈھاکہ کے بعد پنجاب کے کاشتکاروں نے ہلدی کی کاشت پر زیادہ توجہ دی ہے اور اب اس کا رقبہ بڑھ رہا ہے ۔ ہلدی کا زیر کاشت رقبہ اور پیداوار بڑھا کر ہم نہ صرف ملکی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ اسے برآمد کر کے زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔
آب و ہوا:۔ہلدی مرطوب و معتدل آب و ہوا میں اچھی پرورش پاتی ہے۔
زمین کی تیاری و طریقہ کاشت:۔ ہلدی کیلئے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اچھی رہتی ہے۔ جس کھیت میں ہلدی کاشت کرنا ہو اس میں ستمبر میں برسیم کاشت کریں۔ برسیم کی پہلی دو کٹائیاں فروخت کر دیں ، تیسری کھیت میں ہل چلا کر دبا دیں اور زمین کو اچھی طرح ہموار کر لیں۔ ہموار زمین پر 25-20 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالیں اور زمین کو خوب تیار کریں۔ کاشت سے پہلے کھیت میں 5 بوری سپر فاسفیٹ اور 1 بوری امونیم نائٹریٹ کھاد فی ایکڑ بکھیر کر ہل چلائیں۔ ایک ایکڑ کاشت کرنے کیلئے ہلدی کے گچھوں میں سے 700-600 کلوگرام ہلدی کی درمیان والی موٹی گٹھیاں چن لیں اور چاقو سے ان کے دو ٹکڑے کر لیں۔ ہموار زمین پر نصف میٹر پر قطاروں میں پودے سے پودے کا فاصلہ 20-15 سینٹی میٹر رکھ کر کاشت کریں ۔ ہلدی کے بیج کو کھرپے سے 5 سینٹی میٹر گہرا دبا دیں اور کاشت کے بعد کھیت پر کماد کی کھوری کی 3-2 سینٹی میٹر موٹی تہہ بچھا دیں۔ کھوری کھیت میں نمی کو برقرار رکھتی ہے ، دن کے وقت زمین کا درجہ حرارت کم رہتاہے، بیج جلد اور زیادہ اگتا ہے اور پودے اچھی نشوونما پاتے ہیں۔ ہلدی کو آدھا میٹرکے فاصلہ پر بنائی ہوئی 15-12 سینٹی میٹر اونچی پٹریوں پر بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔
آبپاشی، گوڈی اور کیمیائی کھاد کا استعمال:۔ ہلدی کا بیج لگانے کے فوراً بعد آبپاشی کریں اور ہر ہفتہ آبپاشی کر تے رہیں۔ آبپاشی کا پانی کھیت میں بہت جلد جذب ہو جانا چاہیے اور زیادہ دیر تک کھڑا نہیں رہنا چاہیے۔ کھیت میں اگر کھوری ڈالی گئی ہو توخودرو پودے بہت کم اگتے ہیں۔ جولائی میں بارشیں شروع ہو جائیں تو ایک دو بار گوڈی کریں اور ہر بار گوڈی کرنے پر 30 کلوگرام یوریا یا 60 کلوگرام امونیم نائٹریٹ کھاد فی ایکڑ ڈالیں اور آبپاشی کر دیں۔ اس طرح 80 تا 120 کلوگرام یوریا یا 150 تا 200 کلو گرام نائٹریٹ دو دفعہ ڈالی جائے تو پودے بہت صحتمند اور اونچے ہوتے ہیں اور پیداوار زیادہ حاصل ہوتی ہے۔
برداشت:۔ ہلدی کی فصل کے پتے شروع جنوری تک بالکل سوکھ جاتے ہیں اور فصل برداشت کے قابل ہو جاتی ہے۔ اگلی فصل کیلئے اگر بیج درکار ہو تو فصل کا کچھ حصہ کھیت میں کھڑا رہنے دیں اور کاشت کے وقت برداشت کریں ورنہ برداشت کے وقت موٹی گٹھیاں بیج کیلئے رکھ دیں اور اوپر مٹی کی تہہ بچھا دیں تاکہ گٹھیاں سوکھنے نہ پائیں۔
ہلدی ابالنے، سکھانے اور پالش کرنے کا طریقہ:۔ خام ہلدی کو کھیت سے نکالنے کے بعد اچھی طرح صاف کیا جاتاہے اور پھر اسے حسب ذیل طریقوں سے سکھایا جاتا ہے۔ ہلدی کی گٹھیوں کو ایک گھنٹے تک پانی میں ابالا جاتا ہے، ابالنے کیلئے گڑ بنانے والا کڑاہے اور بھٹیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ جب گٹھیاں ہاتھ سے دبانے سے نرم معلوم ہوں تو ان کو دھوپ میں ڈال دیا جائے، یہ 10-8 دن میں خشک ہو جاتی ہیں۔ ہلدی کو ایسے موسم میں ابالنا چاہیے جب مطلع ابرآلود نہ ہو اور بارش کا بھی امکان نہ ہو کیونکہ اگر مطلع ابر آلود رہے گا تو ہلدی جلدی خشک نہ ہو سکے گی اور اس کی اندرونی رنگت خراب ہو جائے گی۔ ہلدی اگانے والے علاقوں میں ہلدی خشک کرنے کا یہی طریقہ رائج ہے۔
ہلدی سکھانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہلدی کی گٹھیوں پر سرسوں کا تیل لگا کر ان کو دانے بھوننے والی بھٹیوں پر آٹھ دس منٹ تک بھونا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ سے گھٹیاں دو تین دن میں سوکھ جاتی ہیں۔ جن علاقوں میں مطلع ابر آلود رہے اور بارشوں کا امکان ہو وہاں یہی طریقہ زیادہ کامیاب رہتا ہے۔جب گھٹیاں اچھی طرح سوکھ جائیں تو ان کو ایک گھومنے والے ڈرم جس میں چھتریاں وغیرہ لگی ہوتی ہیں ڈال کر زور سے گھمایا جاتا ہے۔ ہلدی کی گھٹیاں رگڑ کھانے سے بالکل صاف ہو جاتی ہیں اور خوبصورت بھی لگنے لگتی ہیں۔ اس عمل کو پالش کرنا کہتے ہیں۔ اب ان کو بغرض فروخت منڈی بھیجا جا سکتا ہے۔ اگر ہلدی کو گھر ہی میں استعمال کرنا ہو تو پالش کرنے کی 
ضرورت نہیں ہوتی۔ 100 من خام ہلدی سے تقریباً 25 من خشک ہلدی تیار ہو جاتی ہے۔

تحریر: محمد قوی ارشاد( اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات، راولپنڈی)

Comments