Sugarcane(ratoon) Crop Management

مونڈ ھی فصل

صوبہ پنجاب میں تقریباً 40 تا 45 فیصد رقبہ مونڈھی فصل کے زیر کاشت ہے اورفصل کی پیداواری صلاحیت اورزمین کی زرخیزی کے لحاظ سے ایک یا دو مونڈھی فصلیں لی جاتی ہیں۔ گنے کی فصل کامنافع بخش پہلو اس کی مونڈھی فصل کی پیداواری صلاحیت ہی میں منحصر ہے۔ کاشت کار مونڈھی فصل کی پیداوار لیرا فصل کی نسبت 30 تا 40فیصد کم لیتے ہیں۔مونڈھی فصل سے بہتر پیداوار لینے کے لئے درج ذیل امور کی طرف دھیان دینا چاہئے۔

(i) مونڈھی رکھنے کا وقت

آخر جنوری سے شروع مارچ تک موسم مونڈھی رکھنے کے لئے نہایت سازگار ہے۔ اس وقت رکھی مونڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے ہیں اورپودے اچھا جھاڑ بناتے ہیں۔ نومبر ، دسمبر اورجنوری کے دوران رکھی مونڈھی زیادہ جھاڑ Tillering نہیں بناتی کیونکہ سردی کی شدت سے مڈھوں میں پوشیدہ آنکھیں مر جاتی ہیں اورکچھ مڈھ زمین میں پڑے گل جاتے ہیں۔ اس وقت رکھی مونڈھی فصل میں ناغے بہت ہوتے ہیں۔

(ii) ناغے لگانا

مونڈھی فصل میں اگر ناغے ہوں تو انہیں لازمی پر کریں۔ ناغے پر کرنے کے لئے یا تو علیحدہ نرسری لگائی جائے جہاں سے پودے لاکر لگا دیئے جائیں یا پھر گنے کی اسی قسم کے کھیت سے مڈھ اکھاڑ کر لائے جائیں اورناغے پُرکئے جائیں۔

(iii) کھادوں کا استعمال

مونڈھی فصل کی کھاد کی ضروریات لیرا فصل کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا مونڈھی فصل کوسفارش کردہ مقد ار سے 30 فیصد زائد کھاد دی جانی چاہئے۔جب سردی کا موسم ختم ہو جائے یعنی فروری مارچ کے مہینے میں تو کھیت کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد پانی لگا دیں۔وتر آنے پر نائٹروجن کھاد کا ایک تہائی حصہ جبکہ فاسفورس اور پوٹاش والی کھاد کی پوری مقدار کا گنے کی قطاروں کے ساتھ کیرا کر کے ہل چلائیں۔ ہل چلاتے وقت یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ کماد کے مڈھ نہ اکھڑنے پائیں اور باقی ماندہ نائٹروجن والی کھاددو اقساط میں اپریل اور جون کے آخری ہفتہ میں مٹی چڑھاتے وقت ڈالنی چاہیے۔ نائٹروجن کھاد دیر سے ڈالنے کی صورت میں فصل برھوتری اور پھوٹ کرتی رہتی ہے۔فصل کے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔گری ہوئی فصل کی پیداوار اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔زمین کی زرخیزی کو مد نظر رکھتے ہوئے مونڈھی فصل کو مندرجہ ذیل گوشوارہ نمبر 8 کے مطابق کھاد ڈالیں۔

گوشوارہ 8 کماد کی فصل کے لئے کھادوں کی سفارشات

زرخیزی زمینمقدارغذائی عناصر (کلوگرام فی ایکڑ)قسم کھاد (بوریوں میں) فی ایکڑ
نائٹروجنفاسفورسپوٹاش
کمزور زمین نامیاتی مادہ 86.0 فیصد تک فاسفورس7پی پی ایم تک پوٹاش 80 پی پی ایم تک1569065سوا پانچ بوری یوریا + چار بوری ڈی اے پی + اڑھائی بوری پوٹاشیم سلفیٹ / سوا دو بوری ایم او پی یا پونے سات بوری یوریا + چار بو ری ٹرپل سپرفاسفیٹ + اڑھائیبوری پوٹاشیم سلفیٹ / سوا دو بوری ایم او پی یا پونے سات بوری یوریا + دس بو ری سنگل سپرفاسفیٹ + 18% اڑھائیبوری پوٹاشیم سلفیٹ / سوا دو بوری ایم او پی
درمیانی زمین نامیاتی مادہ 86.0 فیصد تا 29.1 فیصد فاسفورس 7 تا 21 پی پی ایم پوٹاش 80 تا 180 پی پی ایم1206065سوا چار بوری یوریا + اڑھائی بوری ڈی اے پی + اڑھائی بوری پوٹاشیم سلفیٹ / سوا دو بوری ایم او پی یا سوا پانچ بوری یوریا + اڑھائی بو ری ٹرپل سپرفاسفیٹ + اڑھائیبوری پوٹاشیم سلفیٹ / سوا دو بوری ایم او پی یا سوا پانچ بوری یوریا + پونے سات بو ری سنگل سپرفاسفیٹ + 18% اڑھائیبوری پوٹاشیم سلفیٹ / سوا دو بوری ایم او پی
زرخیز زمین نامیاتی مادہ 29.1 فیصد سے زائد فاسفورس 21 پی پی ایم سے زائد پوٹاش 180 پی پی ایم سے زائد903033ساڑھے تین بوری یوریا+سوا بوری ڈی اے پی + سو ا بوری پوٹاشیم سلفیٹ/ ایم او پی یا چار بوری یوریا +سوا بو ری ٹرپل سپرفاسفیٹ + سوا بوری پوٹاشیم سلفیٹ / ایم او پی یا چار بوری یوریا+ ساڑھے تین بو ری سنگل سپرفاسفیٹ + 18% سوا بوری پوٹاشیم سلفیٹ / ایم او پی

(iv) مونڈھی فصل کے لئے کھیت کا چناؤ

جس کھیت میں بیماری اور کیڑوں کا شدید حملہ ہو اس کھیت کو مونڈھی فصل کے لئے ہر گز منتخب نہ کریں۔ مزید برآں گری ہوئی فصل کو آئندہ کے لئے مونڈھا نہ رکھیں۔مونڈھی فصل زیادہ توجہ چاہتی ہے اور بھر پور توجہ نہ ملنے سے پیداوار کم ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اوسط پیداوار میں اضافہ کے لئے مونڈھی فصل کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

کماد کیکٹائی کا طریقہ

گنا کاٹتے وقت یہ کوشش ہونی چاہئے کہ گنا سطح زمین سے آدھا تا ایک انچ گہرا کاٹا جائے۔ اس سے زیر زمین پڑی آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔ نیچے سے کاٹنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مڈھوں میں موجود گڑوووں کی سنڈیاں تلف ہو جاتی ہیں۔

کماد کی برداشت

کماد کی کٹائی گنے کی اقسام اور فصل کے پکنے کو مدِ نظر رکھ کر کریں۔پہلے ستمبر کاشت،مونڈھی اور اگیتی پکنے والی اقسام برداشت کریں۔اس کے بعد درمیانی اور دیر سے پکنے والی اقسام برداشت کریں۔سیلاب، چوہے کے حملے اور گرنے کی صورت میں متاثرہ فصل کو پہلے کاٹیں۔گناکاٹنے سے 25 تا 30 دن پہلے آبپاشی بند کر دیں۔ گنا کاٹنے کے بعد جلد از جلد مل کو سپلائی کر دیں تاکہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے۔ مونڈھی رکھنے کے لئے فصل 15 جنوری کے بعد کاٹیں۔