پاکستان میں سونف کی کاشت
خوراکی ادوایاتی اہمیت:
ان کی تاثیر گرم درجہ دوم اور چھلکے سمیت خشک درجہ اوّل میں شمار کی جاتی ہے۔ حکماء سونف کو بیشتر نسخہ جات میں بنیادی دو ا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دیسی حکمت کے بیشتر نسخہ جات میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ بنیادی طور پر ہاضم خصوصیات کی حامل ہے ۔ گیس کا تیر بہدف علاج مہیا کرتی ہے۔ فالتو بلغم اور جسم کے فاضل مادوں کا کاتمہ کرتی ہے۔ ضروری رطوبات (Secretions) افراز کرنے میں لا جواب حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ حیض آور خصوصیات بھی رکھتی ہے۔اس لئے ماہواری کی رکاوٹ دور کرتی ہے۔ جسم میں ضروری رطوبات (Secretions) کی کمی کا ازالہ کرتی ہے۔ حکمت کی اصطلاح میں سُدے کھولتی ہے۔ چنانچہ معدہ، گردہ، پستان اور مثانہ کے امور میں بہت زیادہ سہولت پیداکرتی ہے۔ اسی نسبت سے سو۔ نف قوتِ بصارت و سماعت کو تقویت بخشتی ہے۔ اس میں وٹامن اے کثیر مقدار میں ہوتا ہے اس لئے نظر کو تا دیر قائم رکھنے کے کئے سونف کو مختلف طریقوں سے مسلسل استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اسہال کہنہ اور دست کی پرانی بیماریوں کو بند کرتی ہے۔ بڑھاپے کا عمل موخر کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
فصلی ترتیب:
پنجاب کے مختلف علاقوں میں یہ فصل مندرجہ ذیل ترتیب کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہے:
- مکئی بہاریہ (جنوری ،فروری)۔چاول (جون) سونف اکتوبر نومبر
- سونف (اکتوبر نومبر) چاول مکئی (اپریل مئی) چاول جولائی
- سونف (اکتوبر نومبر) بھنڈی توری یا کریلا ( مئی) گندم نومبر
- سونف (اکتوبر نومبر) جنتر ( اپریل مئی) چاول جولائی
زمین اور علاقے:
اچھے نکاس والی میر ااور بھاری میرا زمین میں بہتر پیداوار دیتی ہے۔ ریتلی، سیم اور تھوروالی زمین اس کیلئے موزوں نہیں۔ ہلکی میر ا زمین میں زیادہ گرتی ہے اس لئے بھاری میر زمینوں کو ترجیح دی جائے۔ بیج کے بہتر اگاؤ خاطر اسے روٹا ویٹر سے تیار شدہ باریک زمینی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ جڑوں کی گہرائی چونکہ زیادہ نہیں ہوتی ہے اس لئے زمین زیادہ گہرائی تک تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یکساں اگاؤ کی خاطر زمینی ہمواری بڑی اہمیت کی حامل ہے کم وپیش پورے پنجاب میں کاشت کی جاسکتی ہے۔ شمالی پنجاب کی مرطوب آب وہوا میں سونف کو بیماری زیادہ لگتی ہے۔ جبکہ جنوبی پنجاب میں اسے بیماری کم لگتی ہے۔
آب و ہوا:
بہتر سونف پیدا کرنے میں موسم بڑی اہمت رکھتاہے۔ معتدل اور سرد خشک آب و ہوا میں بہتر افزائش کرتی ہے۔ اگاؤ کے دوران موسم معتدل (28تا32 سینٹی گریڈ کے درمیان) اور خشک رہے، بڑھوتری کے دوران مناسب وقفوں سے پرسکون بارش ہوتی رہے اور پکنے کے دوران درجہ حرارت تدریجاً بڑھتا رہے تو معیاری پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ماہ جنوری کے دوران ظاہر ہونے والے انتدائی پھولوں پر کہر کا شدید اثر ہوسکتاہے۔ اگیتے گچھوں پر کہر کا اتنا شدید اثر ہوسکتاہے کہ ان میں دانے نہیں بنتے ۔ جیسا کہ سونف کی بارآوری میں کیڑوں کا بڑااہم کردار ہے۔ لیکن سردی کے دوران کیڑے مکوڑے نہ ہونے کی وجہ سے بارآوری کاعمل پوری طرح نہیں ہوسکتا۔ ایسے حالات میں اگیتی کاشتہ سونف کو نقصان ہوجاتاہے۔ اگر پھول آنے سے لیکر دانہ بننے کے دواران موسم ابر آلود یا مرطوب رہے تو بیماری (جھلساؤ) کاامکان بہت بڑھ جاتا ہے۔ تنا کمزوری ہونے کی صورت میں تیز ہواسے گرسکتی ہے۔ پکنے کے دوران اگر موسم 40 سینٹی گریڈ یازیادہ گرم ہوجائے تو پکنے کا عمل تیز ی سے مکمل ہوجاتاہے۔ اس کے نتیجے میں دانہ سکڑ کر باریک رہ جاتاہے۔ بکائی کے دوران اچانک زیادہ گرمی شروع ہوجائے تو بیج کی رنگت سبز نہیں رہتی بلکہ براؤن ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اس کاریٹ کم لگتا ہے۔
کھادیں:
سونف کو باالترتیب 23-34 کلو گرام نائٹروجن اور فاسفورس ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ ایک تا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک یوریا ڈالنے سے اس کی خوراکی ضرورت کافی حدتک پوری ہوجاتی ہیں۔ ایک تہائی نائٹروجن، تمام فاسفورس بوقتِ کاشت ڈالی جائے۔ بقیہ نائٹروجن کاشت کرنے کے بعد 35تا60 دن کے اندر اندر قسط وار کرکے ڈلیں۔ مٹی چڑ ھاتے وقت اکیلی یوریا ڈالنے کی بجائے نائٹروجن ڈالی جائے تو بہترین پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگر پھول آوری سے پہلے فصل کی رنگت ہلکی سبز ہوتو اس پر مناسب گریڈ کی NPK سپرے کی جاسکتی ہے۔
آبپاشی اور گرنے سے ررکنا:
سونف کو زمین اور موسم کی مناسبت سے تین سے پانچ مرتبہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈرل سے کاشت کی صور۔ ت میں پیلا پانی حتی الوسع تاخیرسے لگائیں۔ پٹٹریوں کے کناروں پر کاشت کی صورت میں پہلا پانی احتیاط سے یکساں لگایا جائے۔ باقی پانی حسب ضرورت لگائے جائیں۔ جب فصل پھولوں پر آجائے تو اس کے بعد ہر آبپاشی موسمی پیشگوئی کی مناسبت سے کرنی چایئے۔ سونف کے تنے اندر سے کھوکھلے ہونے کی وجہ سے کافی کمزور ہوتے ہیں۔ ان مراہل پر آبپاشی کے بعد ہو ا چلنے سے آسانی سے گرجاتے ہیں او ر شدید نقصان ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے پانی لگانے کا کام ہو ا تھم جانے پر تر جیحاً شام کے وقت کیاجائے۔
شرح بیج اور پودوں کی تعداد:
ڈرل سے کاشت کی صورت میں 4تا5 کلوگرام صحت مند وموٹابیج استعمال کیا جائے ۔ پٹٹریوں پر چوکے لگا نے کی صورت میں صرف دوتا اڑھائی کلو گرام بیج کر ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایکڑ میں سونف کے 30-25 ہزار پودے ہوں تو بھر پور پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
وقتِ کاشت:
وسطی پنجاب کے لئے وسط اکتوبر تا وسط نومبر بہتر وقت ہے۔ اگیتی کاشت اکتوبر کے دوران اور درمیانی کاشت نومبر کے پہلے ہفتے کے دوران کی جاتی ہے۔ ڈرل سے کاشت کرنی ہوتو اگیتی کاشت کو اور پٹٹریوں یا کھیلیوں پر کاشت کرنی ہوتو درمیانے موسم میں کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اگیتی کاشتہ فصل کے پودے زیادہ شگو فے نکا۔ لتے ہیں اور بہتر پیداوار دیتے ہیں۔ اگیتی فصل بعض اوقات شدید کہرسے متاثر ہوسکتی ہے۔ لیکن حالیہ تجربات سے پتہ چلا ہے کہ کھیلیوں پر کاشت کی جائے یا ڈرل سے ہر دو صورتوں میں آخر اکتوبر کاشتہ فصل اکثر بہتر پیداوار دیتی ہے۔
طریقہ کاشت:
زمینی ساخت اور وسائل کی مناسبت سے سونف کو چار طریقوں سے کاشت کیاجا سکتاہے۔ مخصوص حالات کے تناظر میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
الف - ڈرل سے کاشت:
ہلکی میر ازمینوں میں بڑے پیمانے پر سونف کاشت کرنی ہوتو ڈرل سے کاشت کی جائے۔ ایسی صورت میں وتر زمین تیار کرکے ڈرل کی مدد سے کاشت کی جاتی ہے۔ ڈرل سے کاشت کی صورت میں پودوں کو باہمی فاصلہ 8-6 انچ اور لائنوں کا دوتا اڑھائی فٹ برقراررکھاجائے۔ اگیتی کاشت کی صورت میں قطاروں کا فاصلہ 2.5 فٹ جبکہ پچھیتی کاشت کی صورت میں دو فٹ رکھا جائے۔ جب فصل کا قد چھ تا نو انچ ہوجائے تو اس کی چھدرائی کردی جائے اور دو فٹ کی ہونے پر کھاد ڈال کر مٹی چڑ ھادی جائے۔
ب - پٹٹریوں پر کاشت :
چھوٹے پیمانے پربھاری میرازمینوں میں سونف کو پٹٹریوں کے کناروں پر چوکے لگاکر کاشت کیاجاسکتا ہے۔ اس صورت میں پودوں کا فاصلہ 9 انچ اور پٹٹریوں کا دو تا اڑاھائی فٹ برقرار رکھا جائے۔ سونف کی بھر پور فصل پیدا کرنے کے لئے چھدرائی کا عمل بے حد ضروری ہے۔ جب فصل کا قد چھ انچ ہوجائے تو ہر چوکے پر ایک ایک پودا چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیے جائیں۔اس طریقے سے کاشتہ سونف کو مٹی نہیں چڑھائی جاسکتی اس لئے اس کے گر۔ نے کے امکانا ت زیادہ ہوتے ہیں۔ چھدرائی نہ کی جائے تو فصل کے تنے کمزور رہتے ہیں اور گرنے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ پٹٹریوں پر کاشتہ سو نف اگر گرنے سے محفوظ رہے تو یہ بھی بہتر پیداوار دیتی ہے۔
کھیلیوں پر کاشت:
بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لئے اڑھائی فٹ کے فاصلے پررجر سے بنائی گئی کھیلیوں کے ایک کنارے پر نو نو انچ کے فاصلے پر کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ جب فصل کا قدچھ انچ ہوجائے تو چھدرائی کردی جائے یعنی مذکورہ فاصلے پر ایک ایک پودا چھوڑ کر فالتو پودے نکال دیے جائیں۔ جب فصل کا قد دو فٹ ہو جائے اس وقت نائٹروفاس یا اس کے متبادل کھا د ڈال کر مٹی چڑھادی جاتی ہے ۔ اس طریقے سے کاشتہ سو نف گرنے سے بہت حد تک محفوظ رہتی ہے۔
د - محفوظ کاشت کا طریقہ:
لیزر سے ہموار سے شدہ اور روٹا ویٹر سے تیار شدہ زمین میں 2.5 فٹ کی پٹٹر یوں کے کناروں پر کاشت کی جائے تو ایک (ترجیحا شمال کی) طرف سونف اور دوسری یعنی جنوبی جانب دھنیا کاشت کیا جا سکتا ہے۔ ان دونو ں فصلوں کی بیشتر ضروریات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ کاشت کے بعد آبپاشی کر دی جائے ۔ آبپاشی کے دودن بعد 33 فیصد طاقت والی پینڈی میتھالین زہر 1200 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے 100 لٹر پانی ملا کر تروتر حالت میں سپرے کردی جائے۔ کاشت کے ایک ماہ بعد ایک آسان گوڈی کردی جائے ۔ دھنیاں کی دو تا تین کٹائیاں لینے کے بعد جنوری میں ان کو ختم کردیا جائے۔ دھنیا والی سمت سے ہر کھیلی کو کاٹ کر کھالی کے اندر گرا کر باریک کیا جائے۔ مٹی خشک ہو۔ نے کے بعدنا ئٹروفاس کھاد ڈال کر سونف کو مٹی چڑ ھادی جائے تو ایک ہی کھیت سے دوگنی آمدن حاصل کی جاسکتی ہے۔
معیاری سونف کا حصول:
انڈیا سے درآمد سونف سبزر نگت کی وجہ سے پاکستان کی مارکیٹ میں زیادہ مہنگی فروخت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی پنجاب کے بر عکس انڈیا کے شمال علاقوں میں موسم اچانک گرم نہیں ہوتا ۔ موسمِ گرما کی تدریجی آمد کی وجہ سے سونف کی پکائی کا عمل تدر یجاً وقوع پزیر ہوتاہے۔ اسی طرح موٹے اور سبز دانوں والی سونف کی ڈیمانڈ کم ہوتی ہے۔ سونف کی رنگت کنٹرول کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سونف کے گچھے نیم پختہ حالت میں کاٹ کر سائے میں خشک کیے جا۔ ئیں ۔ پہلی چنائی کے موٹے دانوں والی سونف سائے میں خشک کرکے اس کی الگ گہائی کی جائے۔ سونف کو زیادہ پکنے سے پہلے پہلے کاٹ کر سائے میں خشک کیا جائے۔ اگر پکائی کے دوران یعنی اپریل کر شروع میں موسم اچانک زیادہ گرم ہوجائے تو اس کا دانا پچک جاتا ہے اور پوری کوشش کے باوجود سونف کی رنگت خراب ہوجاتی ہے۔ ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ سونف کو زیادہ لیٹ کاشت نہ کیا جائے ۔ اکتوبر کے آخر تک کاشت کردی جائے تو معیاری سونف پیدا کی جاسکتی ہے۔
برداشت:
یہ فصل 160تا180 دنوں میں تیار ہوجاتی ہے۔ اپریل میں دو یا تین چنائیاں کریں اور ممکنہ حد تک پہلی چنائی کی سونف کو الگ فروخت کیاجائے۔ برداشت کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو گچھے پک جائیں انہیں کاٹ لیا جائے۔ تین چنائیوں میں اس کے سارے گچھے درانتی سے کاٹ کر سائے میں خشک کیے جائیں اور ڈنڈے کی مدد سے کوٹنے کے بعد صفائی کرکے مارکٹنگ کی جائے۔
ٍپیداوار:
روایتی طریقوں سے کاشت کی صوورت میں عام طورپر 6-5 من فی ایکڑ دستیاب ہوتی ہے ۔ لیکن بہتر پیداواری اور موسمی حالات میں اچھی فصل سے 15 تا 18 من سونف پیدا ہوسکتی ہے۔
سونف کے کیڑے اور بیماری:
سونف پر کیڑوں کا حملہ بہت کم ہوتاہے۔ البتہ مارچ اپریل میں جھلساؤ کی بیماری آتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے پھول آوری سے لے کر دانہ دو دھیا حالت میں پہنچنے کے درمیان دس دس دن کے وقفہ سے ڈائی تھین ایم، مینکو زیب یا ٹاپسن ایم کے تین سپرے کریں۔
جڑی بوٹیاں:
اکتوبر کاشتہ سونف کو نقصان پہنچانے والی جڑی بوٹیوں میں اٹ سٹ، قلفہ، چولائی، مدھانہ، سوانکی، شاہترہ اور لمب گھاس وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں سے اٹ سٹ اور لمب گھاس زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ نومبر کاشتہ سونف میں جنگلی پالک، دمبی سٹی، ہاتھو، کونڈ، مینا اور سینجی و غیرہ اگتی ہیں۔ جڑی بوٹیوں سے بچاؤ کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتاہے۔
الف - اگاؤ سے پہلے سپرے:
بشتر موسمی جڑی بوٹیوں خصوصاً اٹ سٹ اور سٹی بوٹی سے بچاؤ کے لئے زمینی ساخت کی مناسبت سے پینڈی میھالین 12 تا 15 ملی لٹر فی پانی ملاکر کھیلیوں پر چوکے لگانے کے ایک دو دن بعد صرف وتر مقامات پر سپر ے کریں۔ ڈرل سے کاشت کی صورت میں یہی زہر کاشت کرنے سے پہلے ڈیڑ ھ لٹر فی ایکڑ کے حساب سے تیاری کے دوران زمین میں ملا ئیں یا کاشت کے فوراً بعد وتر حالت میں یکساں سپرے کی جائے۔ جب فصل کی قد دوتا اڑھائی فٹ ہو جائے تو مٹی چڑ ھا کر آبپاشی کردی جائے۔
ب - اگاؤ کے بعد سپرے:
اگر بجائی کے وقت زہر سپرے نہ کی جاسکی ہو تو اگاؤ کے ڈیڑ ھ ماہ بھی زہریں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اگاؤ کے بعد استعمال ہونے والی زہرروں میں فینوکساپراپ 500 ملی لٹر یا پر سیپٹ یا ہیلو کسی فوپ 350 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سونف سمیت تمام رقبے پر یکساں سپرے کی جاسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ زہریں سونف میں اگی ہوئی صرف گھاس خاندان کی جڑی بوٹیوں (دمبی سٹی، جنگلی جئی اور دمب گھاس وغیرہ) کو تلف کرتی ہیں جبکہ چوڑی پتوں والی جڑی بوٹیوں کو گوڈی کے طریقے سے تلف کیاجائے۔ جب فصل کا قد دو تا اڑھائی فٹ ہوجائے تو مٹی چڑھاکر آبپا۔ شی کردی جائے۔
مارکیٹنگ، ترسیل اور قیمت کا اتار چڑھاؤ:
مئی کے مہینے میں نئی فصل مارکیٹ میں آنے پر سونف کا ریٹ کافی حد تک گر جاتاہے۔ سردیوں کے دوران اس کی کھپت زیادہ ہوتی ہے اس لئے سردیوں میں اس کا ریٹ زیادہ ہوتا ہے۔ براؤن رنگ کے مقابلے میں سبز رنگ کی سونف کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔ وسطی پنجاب میں سبز سونف پیداکرنا کافی دشوار عمل ہے۔ یہاں اپریل میں اچانک موسم گرم ہونے کی وجہ سے بیشتر فصل کی رنگت سبز نہیں رہتی ۔ بھارت سے درآمد ہ سبز سونف بہتر رنگت کی وجہ سے ہماری مقامی سونف کے مقابلے میں مہنگی فروخت ہوتی ہے۔
پیداواری مسائل:
سونف کے پیداواری مسائل میں مارکیٹ ڈیمانڈ اور سپلائی، جڑی بوٹیاں ، آب وہوا کی ناسازگاری (آندھی سے گر جاتی ہے) اور کٹائی سے بعد سنبھال وغیرہ شامل ہیں۔
پیداواری عوامل کاحصہ:
اہم پیداواری عوامل کے اخراجات میں کھادوں کا حصہ تقریباً 30 فیصد، زمینی تیاری وکاشت وآبپاشی کا 20 فیصد، کیڑوں، بیماریوں اور جڑی بو ٹیوں سے بچاؤ کا 15 فیصد، فصل کی برداشت ومار کیٹنگ کا 35 فیصد بنتا ہے۔ ان اخراجات میں زمین کا ٹھیکہ شامل نہیں ہے۔
پیداواری خراجات اور آمدن:
حالیہ سالوں کے دوران ذاتی زمین کی صورت میں سونف پیداکرنے کافی ایکڑ خرچ 25 ہزار ( وسطی پنجاب کے 1تا 5 ایکڑ والے کاشتکار، نصف مقدار بہری پانی دستیاب ، صرف ناگزیر اطلاقی اخراجات شامل کرتے ہو ئے زمینی تیاری ، بیج و کاشت کے اخراجات 5000، کھادیں 7000، پانی 2000، تلفی جڑی بوٹیاں، چھدرائی و مٹی چڑھائی 4000، برداشت 2000، گہائی 3000 ٹرابسپورٹ 1000، متفرق 1000، کل 25000) روپے بنتاہے بہتر پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیراہونے کے ساتھ ساتھ اگرذاتِ حق کی مہربانی سے موسمی حالات بھی سازگار رہیں بہتر مارکیٹنگ اور مناسب حکمتِ عملی کی بدولت مذکورہ اخراجات میں کمی کرکے معیاری سونف سے اس سے زیادہ بچت کی جاسکتی ہے۔
نفع بخش کاشت کے اہم راز:
اس فصل کی نفع بخش کاشتکاری کے اہم رازوں میں جڑی بوٹیوں کے حملے سے بچانا، پودوں کی مناسب تعداد (25 30 ہزار) برقرار رکھنا، فصل کو مٹی چڑ ھانا اور زیادہ پکنے سے پہلے پہلے کاٹ کر سایہ دار جگہ میں خشک کرنا، اس کی پیدا۔ وار کو قدرے سبز حالت میں مارکیٹ میں پہنچانا شامل ہیں۔

Comments
Post a Comment