Cabbage production Technology for Pakistan

پاکستان میں بند گوبھی کی کاشت

خوراکی و ادویاتی اہمیت:

طبی لحاظ سے بند گوبھی کی تاثیر سرد تر درجہ دوم میں شمار کی جاتی ہے۔ ریشہ دارہونے کی وجہ سے یہ قبض کشاسبزی ہے۔ پیشاب آور ہونے کے ساتھ ساتھ نیند آور خواص کی حامل بھی ہے۔ مصفی خون بھی ہے۔ یہ السر اور شگر کے مریضوں کیلئے بہترین سبزی ہے۔ کینسر کی علاج کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

فصلی ترتیب:

یہ فصل پنجاب کے مختلف علاقوں میں مندرجہ ذیل فصلی ترتیب کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہے:
  • کدو (فروری مارچ) بندگوبھی (ستمبر)۔ کریلا فروری
  • بندگوبھی ( آخراگست) گندم (آخرنومبر)۔ چاول جون
  • چارہ (مارچ) سبزی کدو (جون جولائی) بندگوبھی اکتوبر
  • برسیم (اکتوبر نومبر) چاول (جون) بندگوبھی نومبر

اقسام:

اس کی اہم اقسام میں گولڈن ایکر، ڈرم ہیڈ، کوپن ہیگن اور مارکیٹ ارلی زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ کئی دوغلی اقسام بھی زیِر کاشت ہیں۔ اہم اقسام کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

گولڈن ایکر:

اس کی پیداواری صلاحیت کافی زیادہ ہوتی ہے۔ رنگ ہلکا سبزا ،سائز درمیانہ ولمبوترا، جلدی 60 تا 65 دنوں میں تیار ہونے والی قسم ہے، یہ قسم گرمی بھی برداشت کرسکتی ہے اسی لئے ہر علاقے کے لئے موزوں ہے۔ اس کو تیاری کے بعد دو سے تین ہفتے کے اندر اندر کاٹنا ضروری ہے۔ دیر سے کاٹی جائے تو پھٹ جاتی ہے۔

ڈرم ہیڈ:

اس کی مجموعی پیداوار گولڈن ایکر سے کم ہوتی ہے۔رنگ گہرا سبز، گول، گولڈن ایکر کے مقابلے میں اس کا سائز بڑا قدرے دیر سے (80 تا 90 دنوں میں) تیار ہوتی ہے۔ یہ قسم گرمی برداشت نہیں کرتی، ٹھنڈے علاقے کے لئے مو۔ زوں ، یہ تیاری کے بعد زیادہ عرصہ تک کھڑی رہ سکتی ہے۔

دوغلی اقسام سینٹ:

دوغلی اقسام زیادہ پر کشش ہو تی ہیں اور ان کی پیداوار بھی زیادہ ہوتی ہے، ان کا رنگ گہر ا سبز اور بعض اقسام جامنی رنگ کی ہوتی ہیں۔ جامنی رنگ کی اقسام زیادہ پسند نہیں کی جاتیں، بیشتر اقسام کا سائز بڑا ، گول، لمبوترا ، قدرے جلد۔ی ( 60تا70 دنوں میں) تیار ہوتی ہے، ٹھنڈے علاقے کے لئے موزوں، اس کا ہیڈ زیادہ دنوں تک تیار حالت میں کھڑا رہ سکتاہے۔

زمین:

بھاری و چکنی میرا زمین میں بہتر ہوتی ہے۔ ریتلی اور کلر اٹھی زمین اس کے لئے نا سازگارہے۔ چونکہ اس کے بیج بہت باریک ہوتے ہیں اس لئے یکساں اگاؤ کی خاطر اسے باریک زمینی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ کم گہری جڑوں وا۔ لی فصل ہے۔ اسلئے زیادہ گہرائی تک زمین تیارکرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ بندگوبھی کے یکسا ں اگاؤ کی خاطر زمین کی لیزرلیولنگ کروانی ضروری ہوتی ہے۔

آب وہوا:

سرد اور خشک آب وہوا اس کے لئے زیادہ سازگارہے۔ اگاؤ کے دوران معتدل گرم (25 تا 30 سینٹی گریڈ)، کم درجہ حرارت (12 تا 18 سینٹی گریڈ) پر بہتر کوالٹی کے ہیڈ پیداکرتی ہے۔ یہ پنجاب بھرمیں اگائی جاسکتی ہے، خصوصاً شہر۔ وں کے قریب قریب آبپاشی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ خاص طورپر لاہور ڈویثرن اور سون سکیسر کے علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بیج کا عمومی اگاؤ 75 تا 88 فیصد ہوتا ہے۔ بیج کی روئیدگی اگرچہ چارسال تک برقرار رہتی ہے۔لیکن دو سال سے زیادہ پرانا بیج نہ لگایاجائے تو بہتر ہے۔ اگاؤ کے لئے اسے زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔

کھادیں:

بند گوبھی کی بہتر پیداوار کے لئے 80تا120 کلو نائٹروجن اور 60 تا 100 کلوفاسفورس اور 50 کلو فی ایکڑ پوٹاش ڈالی جائے۔

الف - کھاد کب ڈالی جائے؟

ایک تہائی نائٹروجن ، تمام فاسفورس اور نصف پوٹاش بو قتِ کاشت ڈالی جائے۔ بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش کاشت کے 35 تا 50 دن کے اندراندر قسط وار کرکے ڈالیں ۔ معیاری پیداوار حاصل کرنے کے لئے 4ٹن پولٹری کی کھاد یا 12 ٹن جانوروں کا گلا سڑا گوبر ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اس کو کیلشئم کی زیادہ مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اسلئے یو۔ ریا کے بجائے کیشیم امونیم نائٹریٹ استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

ب - معاون مرکبات کی سپرے:

بند گوبھی پر ایک مرتبہ ہفتے کی نرسری پر اور ایک مرتبہ منتقلی کے تین ہفتے بعد میگز یمو سپر یا ووکوزم 300 ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کی جائے تو اس کی جڑوں کی افزائش بہتر ہوتی ہے۔ جب فصل چالیس دنوں کی ہوجائے تو مناسب گریڈ (52: 13 یا 45:15:5) والی NPK پانچ کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے فلڈ کی جائے ۔ اس کے نتیجے میں حیرت انگیز طورپرزیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

شرح بیج:

ایک ایکڑ کی نرسری اگانے کے لئے اوپی اقسام کا 400 گرام بیج استعمال کیا جاتاہے۔ دوغلی اقسام کا 250 تا300 گرام ایک ایکڑ میں براہِ راست کاشت کیا جاسکتا ہے۔ بند گوبھی کی نرسری وافر مقدار میں اگائیں اور پودوں کی تعداد پوری کریں تو بھرپور پیداوار کا حصول یقینی ہو جاتاہے۔ بند گوبھی کی نرسری پھول گوبھی ، مرچ اور ٹماٹر کے مقابلے میں زیادہ سخت جا ن (Hardy) ہوتی ہے۔ ایک گرام میں عموماً 320 بیج آتے ہیں۔

آبپاشی:

زمینی ساخت اور وقتِ کاشت کی مناسبت سے اس کو چار تا پانچ آبپاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگست میں کا شتہ اگیتی بند گوبھی کو پہلا پانی لگانے کے بعد ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں نرسری منتقل کریں۔ اگلے پانی 12-10 دن کے وقفے سے اکتوبر تک جاری رکھیں۔ سردیوں میں آبپاشی کا وقفہ 15تا21 دن کردیں۔ جب اس کے پھول (ہیڈ) بن رہے ہوتے ہیں ۔ اس وقت پانی کا سوکا نہیں لگنا چاہئے۔ براہِ راست بیج سے کاشتہ بندگوبھی کو پہلاپانی مکمل احتیاط سے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بند گوبھی کو اگاؤ کے لئے قدرے زیادہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اگست یا ستمبر کاشتہ فصل کو دوسرا پانی ذراچڑ ھا کر لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

وقتِ کاشت:

براہِ راست کاشت وسط اگست تاوسط اکتوبر کے دوران کی جاسکتی ہے۔ حالیہ سالوں کے موسم پچھلے عشروں کے مقا۔ بلے میں زیادہ گرم رہنے لگے ہیں اس لئے زیادہ اگیتی (اگست) کی کاشت سے اجتناب کیا جائے ۔ نرسری منتقلی یکم اکتوبر سے دسمبرتک کی جاسکتی ہے۔ پانچ ہفتے (پانچ چھ پتوں) کی نرسری منتقلی کے قابل ہوجاتی ہے۔

طریقہ کاشت:

اگر چہ میرا اور ہکی زمینوں میں ہموا ر زمین پر قطاروں میں بھی کاشت کی جاسکتی ہے لیکن بھاری میر زمینوں میں خصوصاً اگیتی کاشت کی صورت میں کھیلیوں یا پٹٹریوں کے کناروں پر بیج لگا کر یانرسری منتقل کرکے کی جاتی ہے۔ پودوں کا باہمی فاصلہ ایک فٹ اور پٹٹریوں کا اڑھائی فٹ رکھا جائے۔ اس طرح ایک ایکڑ میں 15 تا 18 ہزار پودے لگائے جائیں۔ بند گوبھی کا پودا چونکہ زیادہ نہیں پھیلتا اس لئے اس کے ساتھ دیگر سبزیوں کی مخلوط کاشت آسانی سے کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ پٹٹریوں کے دونوں طرف کاشت کرنے کی بجائے ایک طرف بندگوبھی اور دوسری طرف مٹر، ٹماٹر یا پیاز کاشت کئے جاسکتے ہیں۔

برداشت:

یہ اوسطاً 90 تا 100 دنوں میں تیار ہوتی ہے لیکن اگیتی اقسام 70 دنوں میں بڑے سائز کے (ہیڈ) (Large heads) والی 130 دنوں میں تیار ہوتی ہیں۔ جب بند گوبھی کے پھول (ہیڈ) پتے لپٹنے کی وجہ سے قدرے سخت ہوجائیں توان کو کاٹ لیا جائے۔ اچھی طرح سخت ہونے پر کاٹی گئی بند گوبھی زیادہ دنوں تک محفوظ رہ سکتی ہے۔ تیار ہونے والے ہیڈ کاٹنے میں ہفتہ بھر کے لئے تا خیر بھی کی جاسکتی ہے۔ کچی بند گوبھی کو کاٹ لیا جائے تو یہ زیادہ دنوں تک محفوظ نہیں رہ سکتی۔

پیداوار:

درمیانی اور اگیتی فصل سے 250 تا 300 من فی ایکڑ حاصل ہوتی ہے۔لیکن زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل اچھی اقسام اور بہتر کاشتی امور کی بدولت ٹھنڈے موسم میں 400 تا 500 من فی ایکڑ تک حاصل کی جاسکتی ہے۔ مارکیٹنگ ، ترسیل اور قیمت کا اتار چڑھاؤ اگرچہ سون سکیسر سے آنے والی بندگوبھی کاریٹ جولائی سے لے کر ستمبر تک کافی زیادہ رہتاہے۔ لیکن وسطی پنجاب کی بیشتر فصل نو مبر سے اپریل تک مارکیٹ میں آتی ہے۔جو درمیانے ریٹ پر فروخت ہوتی ہے۔ اگست کاشتہ بندگوبھی نومبر دسمبر میں مارکیٹ میں آئے تو بھی زیادہ ریٹ پر بکتی ہے۔ البتہ جنوری فروری کے دوران اس کا ریٹ کافی حد تک گر جاتا ہے۔

بیماریاں اور اس کا انسداد:

پنجاب میں بند گوبھی پر بیماریوں کی وجہ سے شدید نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن بعض حالات میں اس پر پتوں کا گا لا (Xan thomonas) ، روئیں دار پھپھوندی، جڑکا گالا ، نرسری کا مرجھاؤ، برگی دھبے (Alternaria) وغیرہ نقصان پہنچاسکتی ہیں۔

انسداد:

بیماریوں سے بچاؤ کے لئے دیگر کاشتی امور کی بہتری کے ساتھ ساتھ اچھی اقسام کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے جن کھیتوں میں پہلے بیماری ظاہر ہوچکی ہو وہاں اگلے سال بند گوبھی کاشت نہ کی جائے۔ بند گوبھی یا سرسوں خاندان کی دیگر فصلیں مسلسل کاشت کرنے کے بجائے جگہ بدل بدل کر کاشت کی جائیں۔

کیڑے اور ان کا انسداد:

سست تیلہ اور چمکیلا پروانہ (DBM) اس پر شدید حملہ کرسکتے ہیں۔ ان کو کنٹرول کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔

چمکیلا پروانہ:

بند گوبھی کوچمکیلا پروانہ سب سے زیادہ نقصان پہنچا تا ہے۔ اس کے خلاف ٹریسر 40 ملی لٹر یا میچ بحساب 125 تا 140 ملی لٹر یا ریڈی اینٹ 100 ملی لٹر سو لٹر پانی میں ملا کر یا ان کے متبادل زہریں سپرے کی جاسکتی ہیں۔

سست تیلہ:

لیٹ کاشتہ بندگوبھی پر فروری مارچ میں سست تیلے کاشدید حملہ ہوسکتاہے۔ اس کے خلاف کو نفیڈار یا امیڈا 200 ملی لٹر یا موسپیلان یا ایسیٹا 100 گرام سولٹر پانی میں ملاکر یازرعی ماہرین کے مشورہ سے ان کے متبادل کوئی اور زہر سپر۔ ے کی جاسکتی ہے۔

جڑی بوٹیاں:

اگست سے اکتوبر کے درمیان کاشتہ بندگوبھی کواٹ سٹ، چولائی ، قلفہ، مدھانہ، لمب گھاس وغیرہ نقصان پہنچا تی ہیں اگر نومبر میں کاشت کی جائے تو جنگلی ہالوں، ہا تھو، کرنڈ، جنگلی پالک اور دمبی سٹی اسے زیادہ نقصان پہنچا تی ہیں۔

الف - اگاؤ سے قبل سپرے:

ان کی تلفی کے لئے اگر ستمبر یا اکتوبر بند گوبھی کی صحتمند نرسری منتقل کریں تو منتقلی کے ایک دو دن بعد گوبھی سمیت تمام رقبے پر پینڈی میتھالین ایک لٹر یا ڈوال گولڈ 600 ملی لٹرفی ایکڑ کے حساب سے سپرے کی جاسکتی ہیں۔ اگر نومبر دسمبر کے ٹھنڈے موسم میں منتقل کریں تو ڈوآل گلولڈ 800 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔

ب - اگاؤ کے بعد سپرے

اگر بند گوبھی میں گھاس خاندان کی جڑی بوٹیاں ہوں تو ہیلوکسی فوپ یا فینو کساپر اپ 400 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کی جاسکتی ہیں۔ چوڑے پتوں والی اور گھاس خاندان کی جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لئے کلیر فیلڈ 200 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کی جاسکتی ہے۔ یہ زہریں بندگوبھی کو نقصان پہنچائے بغیر گھاس خاندان کی جڑی بوٹیاں تلف کرتی ہے۔ لیکن ڈیلا تلف نہیں کرتی۔

ج - زیادہ محفوظ طریقہ:

اگرچہ بند گوبھی پھول گوبھی کے مقابلے میں زہریں برداشت کرنے میں زیادہ سخت جان ثابت ہوئی ہے۔ تاہم اگر اگربند گوبھی کو چھوٹی اور کمزور نرسری منتقل کرنی ہو تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھیلیوں کو پانی لگانے کے ایک دن بعد پینڈی میتھا لین 33 فیصد ایک لٹر یا ڈوال گولڈ 800 ملی لٹر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں۔ وتر آنے پر کھرپے یا کلی کی مدد سے ایک انچ گہرے سوراخوں میں نرسری منتقل کرکے پانی لگائیں تو گوبھی سو فیصد محفوظ رہتی ہے۔

پیداواری مسائل:

نامناسب طریقہ کاشت، جڑی بوٹیایوں کا حملہ اور مارکیٹ میں ڈیمانڈ کی کمی اس کی کم پیداوار کی اہم وجوہات ہیں۔ ہمارے تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو کاشتکارکھادوں، کاشتی امور اور فصلی تحفظ کا مربوط انتظام کر تاہے اس کی کامیابی کے امکانا ت زیادہ روشن ہوتے ہیں۔

پیداواری عوامل کا حصہ:

اہم پیداواری عوامل کے اخراجات میں کھادوں کا حصہ تقریباً 30 فیصد، زمینی ہمواری و تیاری و کاشت کا 20 فیصد، کیڑوں، بیماریوں اور جڑی بوٹیوں سے بچاؤ کا 10 فیصد، فصل کی برداشت ومار کیٹنگ کا 30 فیصد جبکہ آبپاشی اور دیگر اخراجات کا 10 فیصد بنتاہے۔ ان خراجات میں اگر زمین کا ٹھیکہ بھی شامل کرلیا جائے تو اس کے ا خراجات سب سے زیادہ ہیں۔

پیداواری اخراجات اور آمدن:

حالیہ سالوں کے دوران ذاتی زمین کی صورت میں بند گوبھی پیدا کرنے کافی ایکڑ خرچ 28 ہزار روپے بنتا ہے۔ ( وسطی پنجاب کے 1تا10 ایکڑ والے کاشتکار جن کو نصف مقدار نہری پانی دستیاب ہو اور بہت سے امور خود انجام دیتے ہوں اور صرف ناگزیر اطلاقی اخراجات شامل کرتے ہوئے زمینی تیاری و کاشت 3000 ، بیج 1000، کھاد۔ یں 10000، پانی 2000 جری بوٹی 2000 ، کیڑے، بیماری 2000، برداشت (10 کٹائیاں) 3000، ٹرانسپورٹ 5000، متفرق 1000، کل 28000)۔ پوری پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیر اہونے کے ساتھ ساتھ اگر موسمی حالات ٹیکنالوجی پر عمل پیر ا ہونے کے ساتھ ساتھ اگر موسمی حالات بھی سازگار رہیں تو 350 من بند گوبھی پیدا ہوسکتی ہے۔ جس سے ایک لاکھ روپے کمائے جاسکتے ہیں ۔ بہتر مارکیٹنگ اور مناسب حکمتِ عملی کی بدولت مذکورہ اخراجات میں کمی کرکے اس سے زیادہ بچت کی جاسکتی ہے ۔

نفع بحش کاشت کے اہم راز:

اس فصل کی نفع بخش کاشتکاری کے اہم رازوں میں مناسب وقت پر اچھی قسم کاشت کرکے پودوں کی مطلوبہ تعداد (15 تا 18 ہزار ) حاصل کرنا، کھادوں کا متناسب استعمال ، نشونما کو تحریک دینے والے مرکبات کی سپرے کرنا، فصل کوجری بوٹیوں وکیڑوں و بیماریوں سے بچانا اور ڈیمانڈ کی مناسبت سے مارکیٹنگ کرنا شامل ہیں۔