برائلر فارمنگ کی موجودہ بیماریاں اور ان کا حل

ڈیئر فارمرز اس وقت برائلر پر بیماریوں کا حملہ شدت اختیار کرتا جارھا ھے جس کو مدنظر رکھ کر مزید کچھ سفارشات پیش کی جارھی ھے .امید فارمرز کو ھمیشہ اپنے علاقے کے موسم کو مدنظر رکھ کر منیجمینٹ کرنی چاھئے اور ادویات کا استعمال بھی اپنے تجربات ومشاھدات کو مدنظر رکھ کر کرنا چاھئے .جیسے اس وقت لاھور میں نمی کی کمی کا مسئلہ تو ھے مگر کس وقت .ھم عموما دن پر درجہ حرارت اور نمی کو فوکس کرتے ھے مگر رات کے وقت کچھ خاص توجہ نہی دیتے اس وقت ھم دن کے وقت شاورنگ کر کے نمی اور درجہ حرارت پورا تو کر رھے ھے مگر رات کو کیا ھو رھا ھے اس کی پرواہ نہی .آئی بی میں سب سے پہلے نمی کو فوکس کیا جاتا ھے دن میں شاورنگ کر کے نمی پوری ھو رھی ھے مگر رات کو شاورنگ بند ھوجاتی ھے اس کیوجہ سے نمی رات کو کم ھو رھی ھے پہلی وجہ تو یہی ھے مگر دوسری وجہ موسم ھے .اس وقت پاکستان کے بہت سے علاقوں میں رات خشک ھے یعنی اگر آپ کے علاقے میں رات کے وقت اوس نہی پڑتی تو سمجھئے نمی کم ھے اور مزید آپ ھاؤس میں تیز فلو کر کے کم کر رھے ھے .اس کا واحد حل دیواروں اور چوزے پر نیم گرم پانی کا سپرے ھے خاص کر آئی بی سے متاثرہ ھاؤسز میں رات کے وقت ھر تین گھنٹے بعد یہ عمل دھرایا جائے اور فین کم چلائے جائے اور پیڈ زیادہ کھولے جائے .یا وینٹس زیادہ کھولی جائے .لاھور میں بیس جون کے بعد بارشیں شروع ھوتی ھے اس وقت نمی کے کم ھونے کا مسئلہ ختم ھو جائے گا .ایچ نائن بھی اس وقت دیکھنے میں آ رھی ھے مگر اس کی درست تشخیص لیبارٹری سے ھی ممکن ھوتی ھے مفروضوں کی بنیاد پر ایچ نائن کی تشخیص ممکن نہی ھے .
مارکیٹ میں اس وقت شراب کو اس کا حل بتایا جارھا ھے یاد رکھئے دوا کے طور پر شراب دی جاسکتی ھے مگر شراب کبھی بھی نزلہ زکام کھانسی کا حل نہی ھے .شراب ریشہ کو بڑھاتی ھے کم نہی کرتی .
ھم آئی بی کے دوران ادویات کا استعمال پلگ توڑنے کیلیے نہی کرتے .جس پرندے میں پلگ بن گیا ھے وہ کسی صورت ختم نہی ھوسکتا اس کا مقدر سوائے موت کے کچھ نہی .ھم بعض مسائل میں ادویات باقی ماندہ پرندے کو بچانے کیلیے دیتے ھے خاص کر آئی بی اور ایچ نائن میں .
آئی بی متعدی کھانسی ھے اس کی وجہ نمی کا کم ھونا یا ھوا میں اس وائرل کا پھیلنا ھے وائرل ستر سے سو میٹر تک گرم موسم میں ٹریول نہی کرسکتا.ھم مٹیلٹی کو دفن کرنے کی بجائے باھر پھینکتے ھے اسطرح وائرل بہت زیادہ پھیلتا ھے .کوے چیل کتے گیڈر ان جراثیم کو بہت دور تک پھیلاتے ھے .مٹیلٹی کو دفن کرنا ھی سب سے اھم ھے .مٹیلٹی کیلیے کنواں بنانا بھی اس کا غیر مناسب حل ھے .
ھمیشہ دفن کرے اس میں ھی سب کا بھلا ھے .
علاج .
انٹراسین (اینرو کولسٹین امیٹاڈائن )اور ڈوکسی (چالیس یا پچاس پرسینٹ ) دے .
دن کے وقت کاڑھا دے .(تیس ھزار برڈ کیلیے تین کلو ادرک تین کلو پودینہ آدھا کلو اجوائن آدھا کلو ملٹھی تیس کلو پانی میں ابالے پانی نصف رہ جائے تو اسے چھ گھنٹے کے پانی میں ملا کردے .
نمی کو فوکس کرے .بہت سے علاقوں میں رات کے وقت نمی کم ھو رھی .بہرحال جس وقت بھی نمی کم ھونے کا خدشہ ھے شیڈ میں نیم گرم پانی کا سپرے ھر تین گھنٹے بعد کرے .احتیاطا بھی کیا جاسکتا ھے .
مینتھول سے پرھیز کیجئے یہ ایک فضول حل ھے .
حل سے زیادہ خشک لٹر ھونے پر بھی میڈیسن اثر نہی کرے گی .
بائیوسیکورٹی فارم کی جان ھوتی ھے اس پر سمجھوتہ مت کیجئے .
فارمالین کی سپرے صبح شام بلاناغہ کیجئے .
مٹیلٹی کو ھمیشہ دفن کیجئے باھر پھینکے سے آپ دوسروں کیلیے گڑھا کھود رھے ھے اور کنواں بنا کر اس میں پھینکنے سے آپ اپنے لئے گڑھا کھود رھے ھے .
بیماری کا مقابلہ کرنے کیلیے حوصلہ چاھئے .یقین مانے جو رزق آپ کے مقدر میں لکھ دیا گیا ھے وہ صرف آپ کا ھی ھے .
فلاک ڈالتے وقت اور سیل کرتے وقت صدقہ خیرات ضرور دیجئے .تاکہ آپ کے مال میں برکت ھو
تحریر عمران رانا صاحب

Comments