پاکستان میں چنے کی کاشت
اہمیت:
دالوں میں چنے ہماری اہم ترین فصل ہے۔ پروٹین کی فروانی کی وجہ سے چنے کی دال گوشت کے نعم البدل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں 18 تا 20 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔ ہماری کل پیداواری میں سے 14 تا 15 فیصد چنے جانوروں کی خوراک میں استعمال ہوتے ہیں۔ گندم اور چاول کے ساتھ استعمال کرنے سے انسانی جسم میں امائنو ایسڈز کی فر۔ اہمی متوازن ہوجاتی ہے۔ چنے بے شمار مصنوعات کی صورت میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ طبی لحاظ سے پختہ چنے گرم خشک ہوتے ہیں۔ بلغمی کھانسی اور نزلہ میں مفید ثابت ہوتے ہیں تاہم خشک کھانسی کی صورت میں چنے استعمال نہ کیے جائیں۔ چنے نہ صرف جسم و کمر کو طاقت مہیا کرتے ہیں بلکہ مقوی ہاہ ہونے کے ساتھ ساتھ کثر تِ حیض یا لیکوریا کو روکتے ہیں۔ اسی طرح جریان ، احتلام اور جگر و گردے کی کئی بیماریوں میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیر سے ہضم ہوتے ہیں۔ چنے یا اس کی مصنوعات کے بکثرت استعمال کی صورت میں ریح کا باعث ثابت ہوتے ہیں۔ پھلی دار فصلوں کی گروہ میں ہونے کی وجہ سے اس کی جڑوں میں نائٹروجن پکڑنے والے جراثیم موجودہوتے ہیں۔ گویا یہ زمینی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسی لئے اس فصل کے بعد کاشت کی جانے والی فصل بہتر ہوتی ہے۔
فصلی ترتیب:
پنجاب کے مختلف علاقوں میں یہ فصل مندرجہ ذیل فصلی ترتیب کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہے:
- چنے تھل ایریا بارانی (اکتوبر) مونگ پھلی (اپریل) گندم نومبر
- چنے تھل ایریا بارانی (اکتوبر) چنے (اکتوبر) گندم نومبر
- مونگ (شروع مارچ) گوارا ( آخرجون) چنے اکتوبر
- چنے تھل ایریا بارانی (اکتوبر) باجرہ (جولائی) گندم نومبر
- چنے تھل آبپاشی (اکتوبر) چارہ (اپریل) گندم نومبر
- چنے وسطی پنجاب (شروع نومبر) مونگ (جون) گندم نومبر
زمین:
چنے کے لئے ہلکی میر ا اور ریتلی اور اچھے نکاس والی زمین موزوں ہے۔ اس کی جڑیں زیادہ اکسیجن کی موجودگی میں زمین سے خوراکی اجزا جذب کرتی ہیں۔ اس لئے کلر اٹھی و بھاری میرا زمین چنے کے لئے نامناسب ہے۔ چنے کی فصل تھل کی ریتلی میرا اور اوسط درجہ کی زرخیز زمین میں نمی ملنے پر خوب پھلتی پھلولتی ہے۔ تھل کے بارانی علاقوں میں مون سون کی بارشوں سے پہلے گہرا ہل چلانا ضروری ہے تاکہ بیماریوں کے جراثومے ضائع ہوجائیں اور آئندہ فصل کے لئے وتر محفوظ رہ سکے۔ بارانی علاقوں میں ریتلی اور نرم زمین میں پہلے سے محفوظ کرو ہ وتر میں زمینی تیاری کئے بغیر بوائی کرنی چاہیئے تاکہ وتر ضائع نہ ہو۔ لیکن آبپاشی علاقے میں ایک دو بار ہل چلانا کافی ہوتاہے۔ پہلے گہرا ہل چلاکر خودرد گھاس اور جڑی بو۔ ٹیوں کی تلفی بہت ضروری ہوتی ہے اس کے بعد ایک مرتبہ ہل اور سہاکہ چلا کر زمین کو اچھی طرح ہموار کرلینا چاہیئے۔ آبپاشی علاقوں میں اس کے بہتر اگاؤ کی خاطر مناسب حد تک باریک زمینی تیاری بڑی اہم سمجھی جاتی ہے۔ یکساں آبپاشی اور بہتر اگاؤ کی خاطر زمینی ہمواری بھی ضروری ہوتی ہے۔
کاشت کے علاقے:
پنجاب میں بکھر، جھنگ، لیہ، میانوالی ، منچن آباد، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں زیادہ اگایا جاتاہے۔ پاکستان میں چنے کی کل مقدار کا اسی فیصد سے زیادہ پنجاب (خصوصاًتھل ایریا) میں پیدا ہوتا ہے۔ اس میں سے پچاس فیصد اکیلے ضلع بھکر سے حاصل ہوتا ہے۔ تھل ایریا میں 14 لاکھ ایکڑ بارانی اور تین لاکھ آبپاشی علاقے میں چنے کاشت کئے جاتے ہیں۔ کل پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ آبپاشی کاشت پر مشتمل ہے۔ تھل گرم و خشک حالات میں جہاں دوسری فصلوں کی کاشت ناکام رہتی ہے۔ وہاں چنے پانی اور زرخیزی کی کمی کے باوجود خوب پھلتے پھولتے ہیں
آب و ہوا:
چنے سر د اور خشک موسم میں بہتر پیداوار دیتے ہیں۔ اگر فروری میں فضائی نمی 80 فیصد سے زیادہ اور درجہ حرارت 20 سینٹی گریڈ سے کم رہے تو چنے کی بیماری (جھلساؤ) کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔اگر سردیوں کے دوران بھر پور بارش ہوجائے اور اس کے بعد دھوپ والے دن شروع ہوجائیں تو ایسے ماحول میں اس بیماری کے جراثیم پھیل جاتے ہیں۔ اور جھلساؤ کی بیماری یقینی ہو جاتی ہے۔ البتہ ہلکی بوندا باندی اور موسم کی خنکی چنے کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتی۔
اقسام:
اس وقت چنے کی اہم قسام میں فور 91، پنجاب 2008، ونہار 2000 ،CM-2008 ،بٹل 98- اور بلکسر 2000 وغیرہ شامل ہیں۔ کل رقبے کا 85 فیصد کالا اور 15 فیصد پر سفید چنا کاشت کیا جارہا ہے۔ اہم اقسام کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
پنجاب 2008
یہ درمیا نے براؤن رنگ کے موٹے دانوں والی کالے (دیسی) چنے کی تازہ ترین قسم ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 25 تا 30 من فی ایکڑ تک ہے۔ جوکہ موجودہ تمام اقسام کے مقابلے میں 25 تا 30 فیصد زیادہ ہے۔ پہلے پانی کے بعد پیلے پن کی بیماری کے خلاف قوتِ مزاحمت رکھنے والی قسم ہے۔ اکھیڑا اور جھلساؤ کے خلاف بھی قوتِ مزاحمت رکھتی ہے۔ بارانی اور آبپاشی علاقوں کے لئے یکساں موزوں ہے۔ نور91- باریک دانوں والے کابلی یا سفید چنے کی قسم ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 25 من فی ایکڑ تک ہے۔ یہ بیماری کے خلاف قوتِ مزاحمت رکھنے والی ایس شاندار قسم ہے جو بارانی اور آبپاشی علاقوں کے لئے یکساں موزوں ہے۔
بٹل 98
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں تیارکی گئی موٹے دانوں والے کالے چنے کی قسم ہے ۔ اس کے دانے تمام اقسام سے موٹے ہوتے ہیں۔ اس لئے مارکیٹ میں اس کا بھاؤ تمام اقسام سے زیادہ ملتاہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 33.6 من فی ایکڑ ہے یہ بیماری کے خلاف درمیانی قوتِ مزاحمت رکھنے والی قسم ہے۔ بارانی اور آبپاشی علاقوں کے لئے یکساں موزوں ہے۔
بلکسر 2000
دیسی چنے کی یہ قسم بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال نے دریافت کی ہے اس لئے تھل اور خصوصاً پوٹو۔ہار کے علاقہ جہاں جھلساؤ کی بیماری زیادہ حملہ آور ہوتی ہے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔ نیز یہ قسم مرجھاؤ کی بیماری کے خلاف بھی قوتِ مدافعت رکھتی ہے اس کی پیداواری صلاحیت 30.4 من فی ایکڑ ہے۔
ونہار 2000
تھل اور پوٹھوہار کے علاقے کے لئے خصوصی قسم ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 25 من تک ہے۔یہ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی قسم ہے
پنجاب 2000
موٹے دانوں والے کالے چنے، قدرے زیادہ نمی میں زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ یہ جھلساؤ اور مرجھاؤ کی بیماریوں اور پیلے پن کے خلاف قوت درمیانی مدافعت رکھتی ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 35.4 من فی ایکڑ ہے ۔ یہ بھی بارانی اور آبپاشی علاقوں کے لئے یکساں موزوں ہے۔
سی ایم 98
دیسی ( کالے ) چنے کی قسم ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 30 تا 35 من فی ایکڑ تک ہے۔ پہلے پانی کے بعد پیلے پن کی بیماری کے خلاف قوتِ مزاحمت رکھنے والی قسم ہے۔ یہ بارانی اور آبپاشی علاقوں کے لئے یکساں موزوں ہے۔
تھل 2006
موٹے دانوں والی قسم ہے۔ پیداواری صلاحیت 30 تا 35 من فی ایکڑ تک ہے۔ جھلساؤ اور مرجھاؤکی بیماری کے خلاف کم قوتِ مزاحمت رکھنے والی قسم ہے۔ یہ تھل کے علاقوں میں نومبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران کاشت کے لئے موزوں ہے۔
سی ایم 2008
یہ کابلی چنے کی نئی قسم ہے۔ اس کی پیداوار ی صلاحیت 30 من فی ایکڑ تک ہے۔ پہلے پانی کے بعد پیلے پن کی بیماری کے خلاف قوتِ مزاحمت رکھتی ہے۔ یہ بارانی اور آبپاشی علاقو ں کے لئے یکساں موزوں ہے۔
بیج کی دستیابی:
اس کی تازہ ترین اقسام کا بیج محدود مقدار میں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد سے اکتوبر کے دوران مل سکتاہے۔
کھادیں اور خوراکی اجزا:
زمینی زرخیزی اور اقسام کے فرق کے علاوہ طریقہ کاشت، ذریعہ آبپاشی اور زمینی ساخت جیسے تغیرات سے کھادوں کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ اچھی زمینوں میں اگاؤ کے بعد نائٹروجن کا استعمال چنے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔ آبپاش علاقوں میں بیج کو جراثیم ٹیکہ لگا کر کاشت کریں تو ابتدائی بڑھوتری اچھی ہوتی ہے اور فاسفورس کھاد کی کافی بچت ہوسکتی ہے۔ مختلف علاقوں میں کھاد استعمال کرنے کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
الف - تھل ایریا:
تھل کے نیم آبپاشی علاقے میں کم از کم 9 کلونا ئٹروجن اور 23 کلوفاسفورس گرام فی ایکڑ ڈالی جائے۔ دوسرے لفظوں میں ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ بجائی کے وقت ڈرل کے ساتھ استعمال کی جائے۔ آبپاش تھل میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی کے ساتھ نصف تا ایک بوری یوریا بھی استعمال کی جائے۔
ب - بارانی علاقے:
بارانی کاشت کی صورت میں ڈی اے پی یا اس کے متبا دل ساری کھاد بوائی کے وقت ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اگر فصل بہت کمزور ہوتو تھوڑی مقدار میں اضافی نائٹروجن اگاؤ کے بعد بارش کی صورت میں پہلے ڈیڑھ ما ہ کے اندر اندر ڈالی جاسکتی ہے۔
آبپاش علاقے:
آبپاشی علاقوں میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی بجائی کے وقت اور آدھی بوری یوریا یا ڈیڑھ بوری ٹرپل سپرفاسفیٹ + آدھی بوری یوریا پہلی آبپاشی کے ساتھ ڈالی جائے۔ یا چار بوری سنکل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ بجائی کے وقت استعمال کرنی جاہیئے۔
د - ہارمون کا استعمال:
اگر چنے کی فصل پانی کی قلت یا لیٹ کاشت ہونے کی وجہ سے چھوٹے قد کی ہو تو پھول آوری کے دوران نشونما اور پھول آوری کو تحریک دینے والے مرکبات ( گروتھ ہارمون) سپرے کرنے سے فصل چنے سے بھر جاتی ہے۔ یہ مرکبات سپرے کے بعد چنے کی آبی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اگر چنے کا قد پہلے ہی زیادہ ہوتو ہارمون استعما ل نہ کیے جائیں۔
شرح بیج اور پودوں کی تعداد:
چنے کی موٹے دانوں والی اقسام کا 30تا35 کلو گرام صاف ستھری، خالص اور صحت مند بیج فی ایکڑ استعمال کر نا چا ہیئے تاکہ کھیت میں پودوں کی مطلوبہ تعداد پوری ہو سکے۔ بھرپور پیداوار کے لئے کالے چنے کے کافی ایکڑ 85تا 90 ہزار اور سفید چنے کے 85-80 ہزار پودے ہونے ضروری ہیں۔اگر بیج کی گریڈنگ یادرجہ بندی کرکے صر ف موٹے دانے کاشت کئے جائیں تو شروع میں ہی صحت مند پودے اگتیں ہیں۔ ابتدائی نشونما اچھی ہونے کی وجہ سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتاہے ۔ قوتِ مدافعت رکھنے والی اقسام کی نوے فیصد اگاؤ والا بیج منتخب کریں۔ اس وقت پنجاب میں صرف دو فیصد رقبہ اچھے بیج سے کاشت ہورہاہے۔
وقتِ کاشت:
چنے شمالی پنجاب( کے اضلاع، جہلم ، پنڈی ، گجرات اور ناروال) وسط ستمبر تا وسط اکتوبر کے دوران کاشت کئے جائیں۔اٹک اور چکوال سائیڈ میں ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے وسط میں ، تھل ایریا میں اکتوبر کے دوران اور وسطی و جنو۔ بی پنجاب کے آبپاشی علاقوں میں وسط اکتوبر سے وسط نومبر تک کاشت کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔آبپاش علاقے میں زیادہ اگیتی فصل عموماً بڑا قد کرجاتی ہے۔ اس لئے وسطی پنجاب کے علاقوں میں نومبر کے شروع میں کاشت کریں تو چنے کی بہتر فصل ہوسکتی ہے۔ وتر زیادہ خشک ہوتو بیج کو چھ کھنٹے تک پانی میں بھگو کر کاشت کریں۔
طریقہ کاشت:
اگرچہ چنے کی کاشت چھٹے سے بھی کی جاسکتی ہے لیکن بہتر نتائج کے لئے چھٹے کی بجائے ڈرل سے کاشت کو ترجیح دی جائے۔ چنے کی کاشت بذریعہ ڈرل یا پور کرنی چاہئے تاکہ بیج مناسب گہرائی میں وتر میں گرے تھل کی بارانی کاشت کی صورت میں قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میڑ (ایک فٹ) اور پودوں کا 15 سینٹی میٹر (6 انچ) ہونا چاہئے آبپاش علاقے میں چنے کی نشونما زیادہ ہوتی ہے اس لئے یہاں لائنوں کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ اور پودوں کا ہمی فاصلہ 8 تا 9 انچ رکھا جائے۔
پاکستان میں باجرہ کی کاشت
باجرہ بارانی علاقے کی اہم ٖفصلوں میں سے ہے۔ جواریا چری کے برعکس باجرے میں چونکہ زہریلا مادہ (Prussic acid) نہیں ہوتا اس لیے اس کو پھول نکلنے سے پہلے بھی چارہ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
زمین اور علاقے:
اس فصل کے لئے اچھے نکاس والی میراوھلکی میرازمین بہتر رہتی ہے۔ اس کی جڑوں کا نظام بہتر کار کردگی کے لئے زیادہ مقدار میں آکسیجن طلب کرتاہے۔ اسی لئے اقص نکاس والی کلر اٹھی، چکنی اور بھاری زمینوں میں جہاں ہو ا اور پانی کا گزر کم ہوتا ہے۔ وہا ں یہ فصل اچھی پیداوار نہیں دیتی۔ باجرہ اگرچہ پنجاب بھرکی میرازمینوں میں اگایا جاسکتا ہے لیکن جنوب مغربی اضلاع ڈیرہ غازی خاں اور راجن پور میں زیادہ اگایا جاتا ہے۔
آب و ہوا:
باجرہ گرم اور خشک موسم میں بہتر افزائش کرتا ہے۔ اسکی جڑوں کی گہرائی مکئی اور چری کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پانی کی کمی اور خشک سالی کافی حد تک برداشت کرسکتاہے۔ باجرہ کافی سخت جان فصل ہے۔ اسی وجہ سے خشک علاقوں میں دوسری فصلوں کی نسبت باجرہ کی سبز چارے اور اناج کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں باجرے کی مختلف اقسام مندرجہ ذیل تناسب سے کاشت کی جاری ہیں۔
- 50 % Pearl Millet (Pennisetum glasicum)
- 30% Proso, Foxtail
- 10% - Fingermillet (Eleusine coracan)
فصلی ترتیب:
پنجاب کے مختلف علاقوں میںیہ فصل مندرجہ ذیل ترتیب کے ساتھ کاشت کی جاسکتی ہے:
- کپاس (مارچ) گندم (نومبر) باجرہ (جون) بہاول نگر
- باجر (جولائی) گندم (نومبر) مونگ جون
- جنتر ( اپریل مئی) باجرہ (جولائی) کینولا یا رایا اکتوبر
- گندم (نومبر) جنتر(اپریل) باجرہ آخرجون)
- باجرہ یا موبگ (مئی جون) گندم (نومبر) باجرہ مئی جون
- گندم (نومبر) باجرہ یامونگ ( آخر جون) لوسن ( اکتوبر) بہاولپور
اقسام:
باجرے کی کئی اقسام ہیں۔ جن میں چائنٹ باجرہ، ایم،بی 87 ، الیف 786، کھانا وائٹ اور بی ایس 2000 زیادہ اہم ہیں۔ان کے علاوہ ,Y-84, Y-82 بارانی۔ 72، ولستان، BY-8206 اور BY-18 بھی زیِر کاشت ہیں۔ زرعی تحقیقاتی ادارہ سرکودھا کی نئی اقسام ایس ۔ 2005 آبپاشی علاقے میں بہتر ین پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔ دوغلی اقسام مثلاً پایو ئیٹر کمپنی کی 86-M33 اور 86 M52 کی دانہ پیدا کرنے کی صلاحی مذکو رہ اقسام کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
ایم۔بی 87:
یہ قسم مارچ میں کاشت کردی جائے تو جولائی کے آخر تک 2 تا3کٹا ئیاں دیتی ہے۔ اس کے بعد بیج بھی پکایا جاسکتا ہے یااگر ہر کٹائی کے بعد کھاد وغیرہ ڈالی جائے تو اسی فصل سے دس من بیج بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے یہ قسم گرنے کے خلاف قوتِ مزاحمت رکھتی ہے۔
شرح بیج اور پودوں کی تعداد:
باجرے کا کم از کم 90 فیصد اگاؤ والا بیج غلہ کی صورت میں 4 کلوگرام جبکہ چارہ کی صورت میں 6-4 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کیاجائے۔ اگر ہائبر ڈاقسام کی کاشت چوکے لگا کرکی جائے تو ڈیڑھ کلو بیج کافی ہوتا ہے۔ ایک ایکڑمیں 30 ہزار پودے ہوں تو بہتر پیداوار دیتا ہے۔
وقتِ کاشت:
بیج کے لئے جون کے آخر سے لے کر جولائی کے آخر تک کاشت کیا جائے۔ جبکہ چارہ کے لئے اپریل سے لے کر جولائی کے آخر تک کاشت کیا جاسکتاہے۔ مارچ میں کاشتہ باجرے کی زیادہ اگیتی کاشت سے اجتناب کیا جائے۔ مجموعی طورپر جولائی میں کاشتہ سنگل کٹ باجرہ چار ے اور دانے کی زیادہ پیداوار دیتاہے۔
طریقہ کاشت:
باجرے کی کاشت ڈرل کے ذریعے یا چوکے لگا کر کی جاسکتی ہے۔ دانے کے لئے کاشت کی صورت میں پودوں کا باہمی فاصلہ 9تا12 انچ جبکہ چارہ کی صورت میں 4 تا 6 انچ رکھا جائے۔ دانے کے لئے قطاروں کا باہمی فاصلہ 2 تا اڑائی فٹ جبکہ چارہ کی صورت میں چھٹہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن قطاروں میں کاشتہ فصل یکساں اگاؤ کی وجہ سے چارے اور دانے کی زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ چنانچہ چارے کے لئے بھی ڈرل کی مدد سے تیس سینٹی میڑ یا ایک فٹ کے فاصلہ پر قطاروں میں کاشت کیا جائے۔
الف - دوغلی اقسام کاطریقہ کاشت:
باجرے کی دوغلی اقسام کو اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر بنائی گئی کھیلیوں کے ایک طرف چھ چھ انچ کے فاصلہ پر چوکے لگا کر بھی بویا جاسکتا ہے۔چوکے سے کاشتہ باجرے کو دوتین فٹ قد کرنے پر مٹی چڑھائی جائے تو فصل گرنے سے محفوظ رہتی ہے اور اس سے مثالی پیداوار حاصل ہوسکتی ہے۔
کاشت بطور چارہ:
چارے کے لئے چھٹے کا طریقہ اختیار کیا جاسکتاہے۔ چارے کے طور پر مارچ سے لے کر اگست کے شروع تک کاشت کیا جاسکتاہے۔ مارچ کے آخر میں کاشتہ فصل مئی میں جبکہ جون جولائی میں کاشتہ فصل ستمبر میں ( سٹے نکلنے شر۔ وع ہو جائیں) چارے کٹائی کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔مئی جون کاشتہ چارے کو اگر دو بوری DAP اور زمینی ساخت کی مناسبت سے ایک تادو بوری یوریا ڈالی جائے تو اکتوبر نومبر تک 2 تا3 کٹائیاں دے سکتاہے۔ چارے کی اگیتی فصل میں اگر رواں بھی ملالئے جائیں تو اس کی غذائیت اور مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوجاتاہے۔
آبپاشی:
اس فصل میں پانی کی قلت برداشت کرنے کی کافی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔بلکہ درمیانے اور کم پانی سے پروان چڑ ھائی گئی دانے والی فصل بہتر پیداوار دیتی ہے۔ دو تین پانی لگانے سے باجرہ کامیابی سے اگایاجاتا ہے۔ پہلا پانی حتی الوسع تاخیرسے ( بوائی کے تین ہفتے بعد) لگائیں، دوسرا پانی پھول آنے پر اور تیسرا دانہ پکنے کے دوران لگائیں باجرہ زیادہ پانی برداشت نہیں کرتا۔ اگر بارش یا پانی زیادہ لگ جائے تو فالتو پانی جلد از جلد نکا ل دینا چاہئے۔ ورنہ نقصان ہوسکتا ہے۔
کھادیں:
زمینی زرخیزی ، وقتِ کاشت، اقسام کے فرق، طریقے کاشت، ذریعہ آبپاشی اور زمینی ساخت جیسے امور کے تغیرات مناسبت سے کھادوں کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔بیج والی فصل کو فاسفورس اور پوٹاش والی کھادیں زیادہ ڈا۔ لنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
الف - کتنی کھاد ڈالی جائے؟
ہرقسم کے اوسط حالات کے پیشِ نظر چارہ کے لئے ایک ایکڑ میں ایک بوری ڈی اے پی اور ایک یوریا جبکہ غلہ کے لئے 2 بوری ڈی اے پی، ایک تادو یوریا اور ایک پوٹاش یا ان کے متبادل ( دوبوری زرخیز) ڈالی جائیں۔
ب - کھاد کب ڈالی جائے؟
ایک تہائی نائٹروجن ، جملہ فاسفورس اور نصف پوٹاش بوقتِ کاشت ڈالی جائے۔ بقیہ نائٹروجن اور پوٹاش کاشت کے بعد 30تا40 دن کے اندر اندر تقریناً دو اڑھائی فٹ قد ہونے پر ڈالیں۔ ہر کٹائی کے بعد ایک بوری یوریا مزیدڈا۔ لنے کی سفارش کی جاتی ہے۔دانے کی بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لئے تین فٹ قد ہونے پر ایک کلو گرام 45:15:5 یا 44:3:14 گریڈ فی فولئر فر ٹیلا ئزر سپرے کی جائے۔
کیڑے اور ان کا انسداد:
شوٹ فلائی یا کونپل کی مکھی باجرے کو شدید نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اگر امیڈا کلو پر ڈ 70WS یا کونفیڈار 5تا گرام یا یکٹارا 3تا5 گرام فی کلو فی گرام بیج کو لگا کرکاشت کریں۔ توفصل پہلے ایک ماہ تک شوٹ فلائی کے حملے سے محفوظ رہتی ہے۔ کونپل کی مکھی سے بچاؤ کے لئے دانے کے لئے کاشتہ باجرے کو کار بوفیوران 9 کلو گرام فی ایکڑ کے حسا۔ ب سے کونپلوں میں ڈالیں۔ا گراس ہاپر سے بچاؤ کے لئے سیون پچاسی 500 گرام فی ایکڑ یا اس کے متبادل زہریں سپرے کی جاسکتی ہیں۔
بیماریاں:
برکی دھبے ، گرین ائر، کانگیاری جیسی بیماریا ں اسکو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لئے نہ صرف قوتِ مدا۔ فعت رکھنے والی نئی اقسام کا انتخاب کیا جائے بلکہ حسبِ ضرورت 2 گرام ٹاپسن ایم فی کلوگرام یااس کے متبادل کوئی اور زہر بیج کو لگا کر کاشت کریں۔
جڑی بوٹیاں
آبپاشی علاقے میں کاشتہ باجرے کواٹ سٹ، مدھانہ ، سوانکی ، ڈیلا ، چولائی ، قلفہ، تاندلہ وغیرہ جبکہ بارانی علاقے میں مدھانہ ، برو، تاندلہ چبھٹر اور مبنی وغیرہ نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ ڈیلے کے سوا چوڑے پتوں والی بیشتر جڑی بوٹیوں تلفی کے لئے مکئی پر استعمال ہونے والی زہر پرائی میکسٹر اگو لڈ (زمینی ساخت ، موسمی حالات،زمینی وتر، جڑی بوٹیوں کی عمر اور اقسام کی مناسبت سے 250 تا 300 ملی لٹر فی ایکڑ) یا اس کے متبادل زہر سپرے کی جاسکتی ہے۔ اگاؤ کے 15 تا20 دن بعد ضروری تربیت لے کر مناسب وتر میں سپرے کی جائیں تو زہروں کی منفی اثرات سے بچاجا سکتا ہے۔ اگر چہ مکئی کے لئے اس زہر کی قدار400 ملی لٹر فی ایکڑ ہے لیکن گرم اور خشک موسم کے دوران یہ مقدار باجرے کی دیسی اقسام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔دوغلی اقسام اس زہر کی قدرے زیادہ مقدار (300 ملی لٹر) برداشت کر سکتی ہیں ہمارا مشورہ ہے کہ باجرے پر زہروں کا استعمال ابتدائی تربیت لینے کے بعد کیا جائے ۔
برداشت، گہائی اور پیداوار:
اس کا چارہ عموماً 2تااڑھائی ماہ میں سٹے ظاہر ہونے پر کٹائی کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ جبکہ بیج کے لئے جولائی میں کاشتہ باجرہ اقسام تیار ہوتی ہے۔جبکہ بیج کے لئے جولائی میں کاشتہ باجرہ اقسام کی مناسبت سے 120 تا 130 دنوں میں اکتوبر نومبر میں تیار ہوتی ہے۔
باجرے کی گہا ئی:
اگر تھوڑے رقبہ پر کاشت کی گئی ہو تو ٹانڈوں کے چھوٹے سائز کے گٹھے بھی بنا ئے جاسکتے ہیں۔لیکن غلا والی جدید اقسام کے دانے سخت ہونے پر سٹے کاٹ کر الگ کئے جائیں اور دھوپ میں پھیلا دئیے جائیں۔ موسم کی مناسبت سے ہفتہ دس دن کے لئے روزانہ کی دھوپ میں الٹ پلٹ کر اچھی طرح خشک کیا جائے۔ خشک ہونے پر ڈنڈے یاتھر یشر کی مدد سے دانے الگ کئے جائیں۔ دوغلی اقسام کی گہائی تھریشر سے کی جائے تو دانے کا معیار بہتررہتا ہے۔
پیداوار:
اس وقت باجرے کا چارہ 300 من اور بیج پانچ چھ من فی ایکڑ حاصل ہوریا ہے۔ لیکن دیسی اقسام کے چارے کی پیداواری صلاحیت 600 من اور بیج کی 20تا22 من تک ہے۔گویا چارے کی پیداوار میں سو فیصد اور دانے میں چار سو فیصد اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ باجرے کی دوغلی اقسام کی پیداواری صلاحیت تیس تا چالیس من فی ایکڑ سے بھی زیادہ ہے۔
مارکیٹنگ، تر سیل اور قیمت کا اتار چڑھاؤ
اس کا بیج سال بھر دستیاب رہتاہے لیکن نومبر کے شروع میں نئی فصل کے مارکیٹ میں آنے پر ریٹ کم ہوجاتاہے۔ بطو ر چارہ جون جولائی سے اکتوبر تک آتا رہتاہے۔ اگرچہ باجرہ زیادہ آمدن والی فصل نہیں ہے۔لیکن جدید دوغلی اقسام کی بدولت دانے کی بھر پور پیداوار حاصل کرکے اسے ایک نفع بخش فصل بنایا جاسکتا ہے۔
پیداواری مسائل:
باجرے کی پیداوار کم ہونے کی وجوہات میں بیج والی فصل پر پرندوں کا حملہ، مارکیٹ میں زیادہ ڈیمانڈ نہ ہونا، مقامی طور پر بہتر اقسام کی کمی، کھادو ں کا غیر متناسب استعمال شامل ہیں۔
پیداواری عوامل کا حصہ:
اہم پیداواری عوامل کے اخراجات میں کھادوں کا حصہ تقریباً 30 فیصد ، زمینی ہمواری و تیاری وکاشت و آبپاشی کا 20 فیصد، فصل کی برداشت ، گہائی اور مارکیٹنگ کا 20 فیصد اور متفرق اخرجات کا 10 فیصد بنتاہے۔ ان اخراجات میں زمین کا ٹھیکہ شامل نہیں ہے۔
پیداواری اخراجات اور آمدن:
حالیہ سالوں کے دوران ذاتی زمین کی صورت میں دانے کے لئے باجرہ پیدا کرنے کا فی ایکڑ خرچ 20 ہزار روپے سے زیادہ بنتا ہے۔( پنجاب کے 10 تا 12 ایکڑ والے ایسے کاشتکار جن کو نہر ی پانی دستیاب نہ ہونا گزیر اطلاقی اخراجات شامل ہیں زمینی تیاری وکاشت 300، بیج 1000 کھادیں 6000، پانی 2000، جڑی ہوٹی 1000، کیڑے 1000، برداشت 2000، گہائی 1000، ٹرانسپورٹ وامارکیٹنگ 2000، متفرق 1000، کل 20000) بھر پور پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ اگر موسمی حالات بھی سازگار رہیں تو 30 من غلہ پیدا ہوسکتاہے۔ دانے اور کڑب سے اجتماعی طورپر پچاس ہزار روپے کمائے جاسکتے ہیں۔ اگر باجرہ صرف چارے کے لئے کاشت کیا گیا ہے تو فی ایکڑ خرچ 10 تا 12 ہزار روپے بنتاہے۔ اس کی دو کٹائیوں سے 500 من چارہ حاصل ہوتا ہے۔ جسے فروخت کر کے تقریباً تیس ہزار روپے کمائے جاسکتے ہیں۔
نفع بخش کاشت کے اہم راز:
نفع بخش کاشتکاری کے اہم رازوں میں دانے کے لئے دوغلی اقسام کاا نتخاب کرنا، کیمیائی کھادوں کا متناسب استعمال کرنا، کونپل کی مکھی سے بچانا ، جڑی بوٹیوں کو بچانا اور ضرورت کے وقت چارے کی دو بھر پور کٹائیاں پیداکرکے مار۔ کیٹنگ کرنا شامل ہیں

Comments
Post a Comment