Cotton diseases and its Management

کپاس کے پتوں کا جراثیمی جھلساؤ (Bacterial Leaf Blight)

اس بیماری کی وجہ سے کپاس کے پتوں پر بھورے نوکداراور نمدار دھبے بن جاتے ہیں۔زیادہ حملہ کی صورت میں ٹہنیوں پر بھی بیماری کا اثر ہو جاتا ہے۔ تنے پر ان نشانات کی وجہ سے ایک دائرہ سا بن جاتا ہے اور بعض اوقات پودا مر جھا جاتا ہے۔کپاس کے ٹینڈے اس بیماری سے متاثر ہونے کے بعد گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔یہ بیماری جراثیموں کی ایک قسم کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور بیمار فصل سے حاصل کردہ بیج کاشت کرنے کی وجہ سے نئی فصل میں آ جاتی ہے۔ اسی طرح گزشتہ فصل کے بیمار حصے جو کھیتوں میں پڑے رہ جاتے ہیں بیماری لگنے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ بارش سے یہ جراثیم بیمار حصوں سے نئی فصل کو متاثر کرتے ہیں۔

روک تھام

بیمار فصل جب کاٹ لی جائے تو پہلی بارش کے بعد وتر آنے پر مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر فصل کی باقیات کو زمین میں گہرا دبا دیں۔ بیماری سے پاک اور تندرست بیج استعمال کریں۔بیج کو گندھک کے تیزاب سے صاف کرنے کے بعد استعمال کریں۔ بیماری کی ابتدائی علاما ت ظاہر ہوتے ہی زرعی ماہرین کے مشورہ سے مناسب دوائی کا سپرے کریں۔ قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔

کپاس کے ٹینڈوں کا گلنا (Boll Rot)

کپاس میں ایک نئی بیماری نمودار ہوئی ہے اس بیماری کی وجہ سے مندرجہ ذیل علامات بنتی ہیں۔ کپاس کے ٹینڈے اندر سے بھورے یا سیا ہ رنگ کے ہوجاتے ہیں جبکہ باہر سے بالکل تندرست نظر آتے ہیں۔ جو بالکل نہیں کھلتے۔ بعض ٹینڈے کھلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن ان کی کپاس ہلکے پیلے رنگ کی ہوجاتی ہے اور بیج کے اوپر کا حصہ بھی ہلکے پیلے رنگ کاہوجاتاہے جبکہ تندرست بیج سیاہ رنگ کا ہوتاہے۔ اس کپاس کی چنائی میں دقت پیش آتی ہے اور مارکیٹ میں اس کی قیمت بھی بہت کم لگتی ہے۔ یہ بیماری ایک بیکٹیریا سے لگتی ہے جس کو کاٹن کی مختلف اقسام کی بگ ٹینڈے میں پنکچر کرکے پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔

روک تھام

اس کی روک تھام کیلئے کاٹن کی تمام بگزکا کنٹرول بہت ضروری ہے۔ لہذا زرعی ماہرین کے مشورے سے کاٹن بگ کی مانیٹرنگ اور موثر زرعی ادویات استعمال کیں جائیں۔

کاٹن لیف کرل وائرس (CLCV)

کاٹن لیف کرل وائرس کے موذی مرض کو موثر طور پر کنٹرول کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کرنا بہت ضروری ہیں۔ کپاس کے علاوہ یہ وائرس بہت سی دیگر متبادل فصلوں اور میزبان پودوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ اس لئے ان پودوں کا مکمل تدارک لازمی ہے۔ ایسے پودے گوشوارہ میں دیئے گئے ہیں ان کا انسداد فصل کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر کیا جائے۔ ا کثر جڑی بوٹیاں باغات،کھالوں اور وٹوں پر ہوتی ہیں ان کو تلف کیا جائے۔ وائرس کے خلاف قوت مدافعت والی اقسام ہی کاشت کی جائیں۔ فروری کے مہینے میں کپاس کے مڈھوں کو لازماً تلف کریں۔ ایسے مڈھ اگردوبارہ پھوٹ پڑیں تو ان میں موجود وائرس کپاس کی فصل پربہت جلد پھیل جاتا ہے۔ لیف کرل وائرس سفید مکھی کے ذریعے فصل پر بہت جلد پھیل جاتی ہے لہذا اس کے انسداد کے لئے مختلف کیڑے مار زہروں کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی انسداد کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے اس سلسلے میں دوست کیڑوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ چھدرائی کے وقت وائرس سے متاثرہ پودوں کو نکال دیں۔ اگر وائرس کا حملہ فصل کے آغاز میں ہو جائے تو چھدرائی دیر سے کریں اور متاثرہ پودے تلف کر دیں۔ باغوں کے قریب یا ایسی جگہوں جہاں وائرس کے حملہ کا اندیشہ ہووہاں نائٹروجن بوائی کے وقت نہ ڈالیں۔بہاریہ فصلوں خاص طور پر سبزیوں کی باقیات فوراً تلف کر دیں۔ سفید مکھی کے موثر کنٹرول کے لئے سپرے طلوع آفتاب سے پہلے یا پھر سورج نکلنے کے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ بعد تک کریں۔ سفید مکھی کے کنٹرول کے لئے ایک ہی قسم کی زہر بار بار استعمال نہ کی جائے بلکہ بدل بدل کر استعمال کی جائے اور سپرے کے لئے پانی کی مقدار بڑھا تے جائیں۔ سفید مکھی کا تدارک موسمِ بہار کی فصلات پر بھی کیا جائے تاکہ ا س کی تعداد جو کپاس کی فصل پر منتقل ہونی ہے وہ کم ہو۔ تندرست فصل ہی بیماری کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتی ہے اس لئے کپاس کی قسم کے مطابق سفارش کردہ پیداواری ٹیکنالوجی مثلاً وقت کاشت، آبپاشی، کھاد اور تحفظ نباتات پر عمل کیا جائے ۔اگر خدانخواستہ کپاس پر وائرس کا حملہ ہو جائے تو دل برداشتہ ہونے کی بجائے کپاس کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دی جائے تاکہ بیماری کے مضر اثرات کم ہوں او ربہترپیداوار حاصل ہوسکے۔ زیادہ بیماری والے علاقوں میں متبادل میزبان فصلوں کو سالانہ ترتیب میں نہ اپنایا جائے۔ وائرس کے حملے کے آغاز سے اگر کھاد اور پانی کا استعمال مناسب طریقے سے کر کے پودے کی بڑھوتری کو تیز کر دیاجائے تووائرس کے نقصانات کم ہوسکتے ہیں۔

کاٹن لیف کرل وائرس اور کپاس کی سفید مکھی کے متبادل میز بان پودے

کاٹن لیف کرل وائرس کے متبادل میزبان خوراکی پودےکپاس کی سفید مکھی کے متبادل میزبان خوراکی پودے
نمبر شمارعام نامنمبر شمارعام نامنمبرشمارعام نامنمبرشمارعام نام
1مکو10رتن جوت1بھنڈی10لیہلی
2تمباکو11گڑھل2آلو11ٹینڈا
3بینگن12پٹھ کنڈا3تمباکو12تربوز
4لیہہ13سن ککڑا4بینگن13خربوزہ
5لیہلی14اک5حلوہ کدو14سورج مکھی
6بیر15بھنڈی6کھیرا15کرنڈ
7کرنڈ16سکلائی7تر16مرچ
8لینٹانا17اٹ سٹ8کریلا17گارڈینیہ
9ہزار دانی18پٹونیا9ٹماٹر18لینٹانا

پودوں کا مرجھاؤ (Plant Wilt)

یہ بیماری دو قسم کی پھپھوندی اورورٹیکلیم دالیائی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بیماری زدہ پودے سائز میں چھوٹے رہ جاتے ہیں اور پودا مرجھا کر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر تنے کو کاٹ کر دیکھا جائے تو اندر سے گہرے بھورے رنگ کا نظر آتا ہے۔

روک تھام

زرعی ماہرین کے مشورہ سے مناسب پھپھوندی کش زہر بیج کا لگا کر کاشت کریں۔

کپاس کی جڑوں کا گلنا (Root Rot)

کپاس میں یہ بیماری مختلف قسم کی پھپھوند اوربیکٹریا سے پیدا ہوتی ہے۔ پودے اچانک مرجھا جاتے ہیں اور اکھاڑنے پر زمین سے آسانی کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ پودوں کی جڑیں گلی سڑی نظر آتی ہیں۔

روک تھام

بیماری سے متاثرہ زمینوں میں نامیاتی مادہ ڈالا جائے۔ پودے سے پودے کا فاصلہ مناسب رکھا جائے چونکہ زیادہ قریب پودے رکھنے سے اس بیماری کا حملہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی ماہرین کے مشورہ بیج کومناسب پھپھوند کش زہر لگا کر کاشت کریں اور حیاتیاتی تدارک کا طریقہ بھی استعمال کریں۔