sugarcane diseases and its management

گنے کی بیماریاں اور انکا تدارک

پاکستان میں کماد کی فصل پر تقریباً 13 بیماریاں مشاہدہ میں ہیں ۔جو کہ اس کی پیداوار میں کمی کا موجب بنتی ہیں ،کماد کی زیادہ مہلک بیماریاں چتکبری (موزیک) رتاروگ، کانگیاری، کماد کی چوٹیک کی سڑانڈ اور کماد کی سرخ برخی دھاریاں ہیں۔ کما د کی فصل بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کی علامات اور علاج کے بارے میں معلومات درجہ ذیل ہیں ۔

کماد کی موزیک:

موزیک کماد کی ایک بڑی اہم بیماری ہے جس کا سبب ایک وائرس ہے، تحقیق سے یہ با ت ثابت ہے کہ یہ بیماری گنے کے وزن، رس کی پیداوار اور قابل حصول چینی کی مقدار میں بلترتیب 10 ,12 ,13 فیصد کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس وقت یہ بیماری بہت فصل میں پائی جاتی ہے۔

علامات:

موزیک کی پہچان کماد کی پتوں سے آسانی سے ہوسکتی ہے ،متاثر پتوں پر ہلکے زردنگ کی بے قاعدہ لکیریں یا نشان نظر آتی ہیں ۔تازہ پتوں پر یہ علامات کافی واضح ہوتی ہیں جبکہ پرانے پتوں سے یہ غائب ہوجاتی ہیں ۔تندرست پودے کی نسبت بیمار پودے کی بڑھوتری کم ہوتی ہے، اور شگو فے نکالنے کی استعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح ان کی پوریاں بھی چھوٹی رہ جاتی چوڑے پتوں والی اقسام پر زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔

انسداد:

  1. صحت مند بیج استعما ل کرکے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
  2. جب یہ بیماری شروع ہونے لگے تو فوراًوہ حصہ ختم کردیں تاکہ بیماری پھیل نہ سکے۔
  3. گوڈی گرتے وقت زرعی اوزاروں کو جراثیم سے پاک رکھا جائے۔

کماد کا رتاروگ:

کماد کا یہ مہلک مرض پنجاب کے گنا کاشت کرنے والے علاقوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔بعض اقسام میں اس کی کی شدّت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ متاثر ہ گنے کی پیداوار میں 50سے 95 تک کمی ہوجاتی ہے، اور بعض اوقات اس کی شدّت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس سے گڑا اور چینی بنانا مشکل ہوتا جاتا ہے۔

علامات:

پھپھوندی کی وجہ سے یہ بیماری پھیلتی ہے، اوپر سے تیسرا یا چوتھا پتا نوک کی طرف سے سوکھنا شروع ہوتا ہے، اور آہستہ آہستہ تمام پودا سوکھ جاتا ہے۔

انسداد:

  1. کاشت کے لئے صحت مند گنوں کا استعما ل ضروری ہے۔
  2. بیمارپودوں کی خس وخاشاک جڑوں سے ہی کھیتوں سے تلف کردیں تا کہ بیماری بڑھ نہ سکے ۔
  3. بیماری والے کھیت کی موڈھی فصل نہ رکھی جائے کیونکہ ایسی فصل بیماری سے لازمی متاثر ہوتی ہے۔
  4. ایک کھیت کا پانی دوسرے کھیت میں نہیں جانا چائیے ۔
  5. کھڑی فصل میں جب کبھی بیمار سوکھے ہوئے گنے نظر آ ئیں تو ان کو جڑوں سمیت نکال دیں ۔
  6. بیج ہونے سے پہلے ڈائی تھین ایم 45 بیلنیٹ اور وائٹاویکس کے محلول میں اس کو 3 سے 5 منٹ تک ڈبوئیں ۔ بیماری کے خلاف مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں ۔ ان اقسام میں بی ایل 4 بی ایلا 113 بی ایف129سی پی 4333
  7. ایس پی ایف-234 اور ٹرائٹان قابل ذکر ہیں۔

کماد کی کا نگیاری:

کانگیاری کماد کی مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جہاں جہاں نیشکری کاشت ہوتی ہے۔کانگیاری بھی وہاں موجود ہوتی ہے۔ نیشکری کی اکثر اقسام میں یہ مرض پایا جاتا ہے۔

علامات:

نیشکر کے متاثر پودوں کی انتہائی نقطہ نمو سے سیاہ رنگ کی ایک ایک چابک نما شاخ نمودار ہوتی ہے۔

انسداد:

  1. بیمار گنے کے پوریاں کاشت نہ کریں کیونکہ یہ اپنے اندر پھپھوندی کش ادویات کا استعمال کیا جائے۔
  2. کانگیاری زدہ فصل کبھی موڈھی نہ رکھی جائے۔
  3. کم گہرائی پر کاشت کرنے سے حملہ کم ہوتا ہے۔ جونہی بیمار پودا فصل میں نظر آئے اسے ختم کر دینا چائیے تاکہ مزید کانگیاری نہ پھیل سکے فصلوں کا ہیر پھیر کیا جائے جن علاقوں میں کانگیاری زیادہ ہے وہا گنے کی کاشت بند. کریں اور دوسری فصل کی کاشت کریں
  4. قوت مدافعت رکھنے والی اقسام بی ایف-129 اور ٹرائٹان وغیرہ کاشت کریں۔

کماد کی چوٹی کا سڑاند:

کماد کے نئے پتوں پر شروع میں پیلے رنگ کے دھبے بننا شروع ہوجاتے ہیں ۔جوں جوں یہ پتے بڑے ہوتے ہیں ان پر سرخی مائل بے ترتیب دھاریاں بننے لگتے ہیں اس مرض کا زیادہ تر انحصار کماد کی اقسام اور موسمی حالات پر ہوتا ہے۔

سبب:

بیماری ایک پودے سے دوسرے پودے تک ایک کھیت سے دوسرے کھیت تک ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔

انسداد:

بیماری کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔

  1. کماد کی قسم بی یل 4بی ایل 113میں اس بیماری کا حملہ کم ہوتا ہے۔
  2. متاثر ہ پودے بیج کے لئے استعمال نہ کئے جائیں
  3. بیمار پودوں کو کھیت سے نکال دیا جائے۔
  4. کماد کے پتوں کی سرخ رنگ کی دھاریاں بن جاتی ہیں جو زیادہ تر نوخیز پتوں کی درمیانی رگ کے متوازی ظاہر ہوتی ہیں اور پتے کے اوپر نیچے دونوں طرف پھیل جاتی ہیں۔

اسباب:

  • بیمار پودوں کا پانی جب ایک کھیت سے دوسرے کھیت میں ہوجاتا ہے تو تندرست پودے بھی بیمار ہوجاتے ہیںَ مرض کا سبب ایک جرثو مے کی وجہ سے ہوتاہے۔