How to Protect Cotton from Pests

فصل کا کیڑوں اورسنڈیوں سے تحفظ

بی ٹی کپا س لمبے عر صے کی فصل ہے بی ٹی کپا س اور بہا ریہ فصلوں کے دورانیہ کا کچھ حصہ ایک دوسرے کے سا تھ مشتر ک ہے جسکی وجہ سے بہا ر یہ فصلا ت سے بی ٹی کپا س پر کیڑو ں کی منتقلی کے امکا نا ت بہت زیا د ہ ہو تے ہیں اس لیے بی ٹی اقسا م پر ابتدا ہی میں رس چو سنے والے کیڑوں پر قا بو پا نابہت ضرو ر ی ہے۔ ابتدا ہی میں بی ٹی کاٹن پر تھرپس سبز تیلا، سفید مکھی اور جووؤں کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے فصل کو رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ سے بچانا بہت ضروری ہے۔فصل کے اگاؤ کے بعد رس چوسنے والے کیڑوں سے بچاؤ کے لئے بوائی کے وقت بیج کو مناسب سفارش کردہ زہر لگا کر کاشت کریں۔رس چوسنے والے کیڑوں کے شدید حملہ کی صورت میں سپرے محکمہ زراعت (توسیع)کے عملہ کے مشورہ سے کریں۔ چتکبری سنڈی اور امریکن سنڈی کے خلاف بی ٹی اقسام قوتِ مدافعت رکھتی ہیں۔جسکی وجہ سے ان کا حملہ نہیں ہوتا جبکہ لشکری سنڈی اور گلابی سنڈی کا حملہ گزشتہ چند سالوں سے شدت اختیار کر رہا ہے۔لشکری سنڈی کا حملہ نظر آنے پر اور گلابی سنڈی کی تعداد معاشی نقصان کی حد تک پہنچ جانے پر محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ کے مشورہ سے مناسب زہروں کا استعمال کریں۔نیز وقت سے پہلے رس چوسنے والے کیڑوں کے خلاف سپرے کا سلسلہ بند نہ کیا جائے کیونکہ جلدی سپرے بند کرنے سے کھلنے والے ٹینڈے متاثر ہوتے ہیں۔ اگرپودے پر تین دن کی سنڈی سے زیاد ہ بڑ ی سنڈی(امریکن +چتکبری) نظر آ ئے تو بی ٹی بیج کے خا لص ہو نے پر شک ہو سکتا ہے اس صو ر ت میں اس پر رس چو سنے والے کیڑو ں کے علا و ہ سنڈ یو ں کا تدارک بھی ضر ور ی ہے اور اس کے لیے نا ن بی ٹی(عام) اقسا م کے لحا ظ سے معا شی حد مقرر ہو گی۔ ہر 10دن بعدمحفوظ سرائیت پذیر اور آئی جی آر زہر و ں کا سپر ے کر یں تا کہ مو سمی فصل پر سفید مکھی اور وائر س کے حملے کے امکا نا ت ختم کیے جا سکیں۔لشکری سنڈی بی ٹی کاٹن پراکثر حملہ آور ہوتی ہے،اگر کسی پودے پر اس کا حملہ دیکھیں تو فوراً پتوں کو توڑ کرزمین میں دبا دیں۔اگر حملہ ٹکڑیوں میں یا سارے کھیت میں ہو تو اس کے خلاف مناسب زہر پاشی ضروری ہے۔ گلابی سنڈی کے حملہ کی صورت میں جب سنڈی پھول میں موجود ہو تو فوراً مناسب زہر پاشی کی جائے ورنہ سنڈی کے ٹینڈے میں داخل ہونے کے بعد کنٹرول نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے ۔رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ کی صورت میں سپرے محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے کریں۔

کپاس کی روئی بدرنگ بنانے والے کیڑے۔۔۔ایک ابھرتا ہوا خطرہ

کپاس کی روئی کوبدرنگ کرنے والے کیڑے ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہیں۔ اگر اس خطرے کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو یہ آنے والے سالوں میں کپاس کے کاشتکاروں اور صنعت کے لیے کئی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ ماہرین کپاس نے اس کی وجوہات اور تدارک کے بارے میں درج ذیل سفارشات پیش کی ہیں۔

وجوہات:

ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ کپاس کی روئی کو داغدار کرتے ہیں جس سے کپاس کا معیار گرجاتا ہے۔ یہ کیڑا بالغ اور بچہ دونوں حالتوں میں سبز ٹینڈے میں اپنی سوئی داخل کر کے بیج کا رس چوس لیتا ہے۔ متاثرہ بیج اور روئی پر بیکٹیریا اور فنجائی کا حملہ ہوتاہے۔ نتیجتاً ٹینڈا پورا نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی ہے۔ کیڑے کے فضلات سے بھی روئی آلودہ ہو جاتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں جننگ کے عمل میں یہ کیڑا کچلا جاتاہے تو اس کی باقیات بھی روئی پر داغ بنانے کا سبب بنتی ہیں۔بیج پر شدید حملے کی صورت میں بیج میں تیل کے اجزا کم ہو جاتے ہیں اور بیج کا اُگاؤ بھی متاثر ہوتاہے۔ کپاس، بھنڈی توری، جوار، باجرہ اور پٹ سن اس کے میزبان پودے ہیں۔ زیادہ نمی اور کم درجہ حرارت میں اِن کا حملہ بڑھ جاتاہے او ر ستمبر سے نومبر تک یہ کیڑے کپاس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

حفاظتی تدابیر:


زرعی طریقے:

کپاس کی چنائی کے بعد کھیت اور وٹوں پر ہل چلا دیں تاکہ سورج کی روشنی میں کیڑوں کے انڈے تلف ہو جائیں۔ ابتدائی حملے کی صورت میں کیڑوں کو ہاتھ سے چن کر تلف کریں۔ کیڑے کی میزبان فصلات کوکپاس کے کھیتوں کے قریب کاشت نہ کریں۔ کپاس کے کھیتوں کے اندراور ارد گرد اُگنے والی جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔ اس کیڑے کی تمام آماجگاہیں (سوراخ، دراڑیں ، گڑھے اور کھالیاں وغیرہ) ختم کر دیں۔ اس کیڑے کو تباہ کرنے کا بہترین وقت وہ ہے جب یہ سردیوں میں سرمائی نیند سوتا ہے۔ 15 اپریل سے قبل کپاس کاشت کرنے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ان کیڑوں کی کالونیوں کو تباہ کرنے کے لیے چنائی کے بعد کپاس کے کھیت میں چھڑیوں کوروٹا ویٹ کردیں یا سفارش کردہ زہروں میں سے کوئی ایک زہر آبپاشی کے ساتھ کھیت میں ڈالیں۔

کیڑوں کے معائنہ کا مناسب وقت

کیڑوں کے لئے فصل کے معائنہ کا مناسب وقت وہ ہوتا ہے جب کیڑے اپنی خوراک کے لئے سرگرم ہوتے ہیں۔ یہ عمل تیز دھوپ اور گرمی کے وقت سست ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کام صبح یا شام کو کرنا چاہئے۔ پیسٹ سکاؤٹنگ ایک ایکڑ یا زیادہ رقبے میں کی جا سکتی ہے۔ اگر فصل کا رقبہ زیادہ ہو تو ہر 25 ایکڑ میں سے 5 ایکڑ میں پیسٹ سکاؤٹنگ کافی ہے۔ کپاس کی ہر قسم کی علیحدہ علیحدہ پیسٹ سکاؤٹنگ ضروری ہے۔ اس کے بعد سپرے کا فیصلہ مختلف کیڑوں کے نقصان کی معاشی حدکے مطابق کیا جائے جو کہ ذیل میں درج ہے۔

کپاس کے کیڑوں کے نقصان کی معاشی حد


رس چوسنے والے کیڑے

نمبرشمارکیڑے کا ناممعاشی نقصان کی حد
1تھرپس (Thrips)8 تا 10 بالغ یابچے فی پتا
2سبزتیلا (Jassid)ایک بالغ یا بچہ فی پتا
3سفید مکھی (Whitefly)5 بالغ یابچے فی پتا یا دونوں ملا کر 5 فی پتا
4جوئیں (Mites)نقصان کی علامات ظاہر ہونے پر
5سست تیلا (Aphid)اوپر والی کونپلوں پر واضح نقصان
6گدھیڑی (Mealy bug)کھیت میں حملہ نظر آنے پر
7ڈسکی کاٹن بگ (Dusky Cotton Bug)100 فٹ لمبی قطار میں15سے زیادہ بگز

(سنڈیاں) بی ٹی اقسام کے لئے

نمبرشمارکیڑے کا ناممعاشی نقصان کی حد
1چتکبری سنڈیکھیت میں زندہ سُنڈی نظر آنے پرا
2گلابی سنڈیکھیت میں زندہ سُنڈی نظر آنے پر
3امریکن سنڈیکھیت میں زندہ سُنڈی نظر آنے پر
4لشکری سنڈیکھیت میں حملہ نظر آنے پر

(سنڈیاں) روائتی اقسام کے لئے

نمبرشمارکیڑے کا ناممعاشی نقصان کی حد
1چتکبری سنڈی3 سنڈیاں فی 25 پودے یا 10 فیصد ڈوڈیوں،پھولوں اور ٹینڈوں کا نقصان
2گلابی سنڈی5 سنڈیاں فی 100 نرم ٹینڈے یا اگست میں 10 فیصد نقصان یا ستمبر میں 5 فیصد نقصان
3امریکن سنڈی5 بھورے انڈے یا 3 چھوٹی سنڈیاں فی 25 پودے یا دونوں ملا کر 5 فی 25 پودے
4لشکری سنڈیکھیت میں مقامی طور پر حملہ نظر آنے پر

کسان دوست کیڑے

بہت سے کسان دوست کیڑے قدرتی طور پر کپاس کے کھیت میں پائے جاتے ہیں ۔ دشمن کیڑوں کا کھانے والے دوست کیڑوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ تفصیل مندرجہ زیل ہے۔
دشمن کیڑاکسان دوست کیڑےکسان دوست کیڑوں کا تناسب
سفید مکھیکرائی سوپرلاایک تا دو لاروے فی پودا
سنہری بھونڈی (انکارسیا)30 - 25 فیصد سفید مکھی کے حملہ شدہ بچے فی پتا
سبز تیلاجادوئی کیڑادو بالغ / پانچ بچے فی پودا
تھرپساوریس / کورڈ بگتین بالغ / پانچ بچے فی پودا
کرائی سوپر لاایک تا دو لاروے فی پودا
شکاری جوںسات بالغ و بچہ فی پودا
جوںٹینڈنیایک بالغ / دو بچہ فی پودا
شکاری جوںپانچ بالغ / بچہ فی پودا
چتکبری سُنڈیکرائی سوپر لاایک تا دو لاروے فی پودا
امریکن سُنڈیاوریس بگ/کرائی سو پرلادو بالغ یا پانچ بچے/دو لاروے فی پودا
گلابی سُنڈیپیلا بھونڈ5-7 فی کھیت
لشکری سُنڈیمکڑی1-2 فی پودا
ڈیمسل و ڈریگن مکھیاں7-5 فی کھیت
ٹینڈنی2-1 فی پودا
کاٹن بول ورمٹرائیکو گراما10-15 کارڈزفی ایکڑ

ٹرائیکو گراما کارڈ کا استعمال

ٹرائیکوگراما ایک طفیلی کیڑا ہے جو تتلیوں کے خاندان کے نقصان رساں کیڑوں کے انڈوں کو تلف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کیڑے کی لیبارٹری میں پرورش کے طریقے دریافت کر لئے ہیں۔اور ایسے کارڈ تیار کر لئے گئے ہیں جن پر ٹرائیکو گراما کے انڈے ہوتے ہیں۔ان کارڈز کو کامیابی سے تمام فصلوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایک ایکڑ کپاس کے لئے 10 سے 15 کارڈ ز کافی ہوتے ہیں۔ ان کارڈز کو ہر سات دن کے وقفہ سے دوران فصل استعمال کرناچاہیے۔یہ کارڈز شوگر ملز ، محکمہ زراعت ( تو سیع) کے ضلعی دفاتر ، زرعی یونیورسٹیوں اور ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد سے دستیاب ہیں۔ان کے استعمال سے کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی ، چتکبری سنڈی اور کاٹن بول ورم کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اور زہروں کی مد میں فی ایکڑ لاگت کم کی جا سکتی ہے۔