آج سے کچھ سال پہلے تک کسان اسے بخت والا کیڑا کہتے تھے. یعنی سمجھتے تھے کہ اس کو موجودگی سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور ریٹ بھی بڑھتا ہے. زرعی ماہرین کے مطابق ڈسکی کاٹن بگ کپاس کے پھولوں اور ٹینڈوں سے رس چوس کر انہیں کمزور کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے پھول گڈی کا رنگ ہلکا پیلا ہو جاتا ہے اور گرنا شروع کر دیتی ہے. ڈسکی کاٹن بگ کے حملہ سے بیج میں تیل کی مقدار کم ہو جاتی ہے. یہ بیج سے رس چوس کر اس میں پندرہ فیصد تک کمی کر دیتا ہے، اس سے بیج کے اگنے کی صلاحیت میں ستر سےاسی فیصد تک کمی ہو جاتی ہے. اس کے حملہ سے بیج باہر سے صحت مند نظر آتا ہے لیکن اندر سے پچک جاتا ہے. ان کیڑوں کے بچے اور بالغ دونوں حالتوں میں ٹینڈے میں اپنی سوئی داخل کر کے رس چوس لیتے ہیں. جس سے متاثرہ بیج اور روئی پر بیکٹیریا اور فنجائی (فنگس) کا حملہ ہو جاتا ہے. جس کے نتیجے میں ٹینڈا پوری طرح نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی ہے. ان کیڑوں کے فضلات سے بھی روئی خراب ہوتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں ان کیڑوں کے کچلنے سے کپاس پر داغ بن جاتے ہیں. مکمل سیزن میں اسکی موجودگی سے اوسط پر تیس فیصد تک کمی ہو سکتی ہے. لہزا اس کے تدارک کے لیئے بروقت اقدامات کرنے چاہیے.
ان کیڑوں کی میزبان فصلات کپاس، بھنڈی، توری، جوار، باجرہ وغیرہ ہیں. اس لیئے کپاس کو باقی فصلات سے دور رکھنا چاہیے. مزید یہ کہ جڑی بوٹیوں کو فوری اور مکمل کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے.
سپرے کے لیئے ایک مکمل ٹیبل پوسٹ کیا گیا ہے اس سے استفادہ کریں. ٹیبل کے ریسرچ ورک کا کریڈٹ Naveed Muhammad جاتا ہے.جو گورنمنٹ کے ادارہ سی سی آر آئی میں بطور اینٹامالوجسٹ ریسرچر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں
تحریر احسان منان خان

Comments
Post a Comment