Cotton pest management

الف - رس چو سنے والے کیڑے:

کم و بیش پہلے ایک ماہ تک ان سے بچنے کے لئے بیج کی براتارنے کے بعدہومبرے 20 ملی لٹر فی کلو بیج کو لگا کر کا۔ شت کریں۔ بیج کو زہر آلود کرکے کاشت کیاجائے تو پہلے تین چار ہفتوں تک کپاس رس چوسنے والے بیشتر کیڑوں سے کافی حد تک محفوظ رہتی ہے۔ کپاس کو ابتدائی مرحلے پر رس چوسنے والے کیڑے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

سست تیلہ:

اگر بیج کو زہر آلو نہ کیا جاسکا ہو اور کپاس مارچ میں کاشت کی گئی ہوتو سست تیلے کا حملہ بھی ہو سکتاہے۔ اگست ستمبر میں موسم زیادہ مرطوب ہوجائے تو عین ٹینڈے کھلنے کے دوران بھی اس کا حملہ ہوسکتاہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے کو نفیڈ۔ ار یا امیڈاکلو پر ڈیا ایڈو انٹیج200 ملی لٹر فی سولٹر پانی میں ملا کر سپرے کی جاسکتی ہیں۔
تھرپس
اگرچہ تھرپس کا حملہ کسی بھی وقت ہوسکتاہے۔ لیکن مارچ اپریل کاشتہ کپاس پر اگنے کے بعد پہلے دو ہفتے کے اندر ہی شروع ہوجاتاہے۔ زیادہ شدید حملہ اس وقت ہوتاہے جب فصل گرمی یا سردی کی وجہ سے سختی (Stress) کی شکار ہو۔ اکثر و بیشتر چھوٹی سٹیج پر تھرپس کا حملہ زیادہ شدید ہوتاہے۔ چھوٹی چھوٹی کپاس کو اس سے بچانے کے لئے ٹریسر 40 ملی لٹر یالیسیٹ 40تا60 گرام یا ان کے متبادل زہریں تجویز کی جاتی ہیں۔ اگر لیٹ سٹیج پر اس کا حملہ ہوتو کلو رفیٹا پائر (ایسٹیٹ) یا اس کے متبادل زہر سپرے کی جائے۔

سفید مکھی:

گرم اور خشک موسم میں سفید مکھی کا حملہ شدید تر ہوتاہے۔ جب فصل کو پانی کا سوکا لگ جاتاہے ۔اس وقت اس میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے سوکے والی فصل پر سفید مکھی کا زیادہ حملہ ہوتاہے۔ موسپیلان یا ایسیٹاپرڈ کے خلاف سفید مکھی میں قوتِ مزاحمت پیداہو چکی ہے۔ اس وقت یہ زہر اکیلی استعما ل کی جائے تو تقریباً غیر موثر ہو۔ چکی ہے۔ البتہ اسے پائری پروکسی فن کے ساتھ ملاکرا ستعمال کیا جائے تو سفید مکھی کنٹرول ہوجاتی ہے۔ بہتر نتائج کے لئے اگراکیلی بائری پروکسی فن یا مووینٹو میں سے کوئی ایک زہر6 دن کے وقفے سے دومر تبہ سپرے کردی جائے تو تو سفید مکھی کا یقینی خاتمہ ہوجاتاہے۔ شدید حملہ کی صورت میں پائری پروکسی فن اور مووینٹو ملاکر سپرے کردی جائیں تو ایک ہی سپرے سے سفید مکھی کا خاتمہ ہوجاتاہے۔ اگر فصل دہ ماہ کی یا بڑی ہوجائے تو 200 ملی لٹر فی ایکڑکے حسا ب سے پولو جیسی طاقت ور زہر استعمال کی جائے ۔

گدھیٹری یا میلی بگ:

گندم کے بعد کاشتہ کپاس پر کاشتی اور موسمی حالات کی مناسبت سے ماہ جولائی اور اکتوبر کے دوران میلی بگ کا حملہ ہو سکتاہے۔ اس کا حملہ ہر سال یکساں نہیں ہوتا۔ کسی سال کم ہوتاہے۔ اور کسی سال زیادہ ۔ میلی بگ کے حملے کے ابتدائی مرحلے میں جب اگاؤ کا پودوں پر یہ کیڑا نظر آئے تو کو نفیڈار الٹر ایا امیڈا کلوپرڈ بھی اس کو موثر طور پر کنڑول کرسکتی ہیں۔ میلی بگ اگر پورے کھیت میں پھیل جائے اور کافی بڑی بڑی ہوجائے تو لییغا 60 گرام یا پروفینو فاس یا کیورا کران 1000 ملی لٹر یا لارسبن 1000 ملی لٹر شدید حملہ کی صورت میں متاثرہ پودوں پر ایک ہفتے میں دو مرتبہ سپرے کی جائیں۔ اس کے انسداد میں زہر کے ساتھ ساتھ اس کے بہتر استعمال کی اہمیت زیادہ ہے۔

مائٹس یا جوئیں:

گرم اور خشک موسم میں کپاس پر جوؤں کا شدید حملہ ہوسکتاہے ۔ ان سے بچاؤ کے لئے نسوران یا یونیک یا پولو 200 ملی لٹر فی ایکڑ یا 2 ملی لٹر فی ڈائی کو فال 300 ملی لٹر یا اوبیران 60 ملی لٹر سو لٹر پانی ملاکر سپرے کی جاسکتی ہیں۔

ڈسکی کاٹن بگ:

بی ٹی اقسام کی آمد سے پہلے کپاس پر سخت زہریں استعمال کی جاتی تھیں۔ وہ زہریں ڈسکی کاٹن بک کو بھی زیرِ کنٹرول رکھتی تھیں۔ لیکن سابقہ عشرے کے دوران کپاس کی بی ٹی اقسام کی کاشت عام ہو گئی جس میں زیادہ سخت کیڑے مار زہر یں استعمال نہیں ہوتی رہیں۔ رس چوسنے والے کیڑوں کے خلاف کم طاقت ور زہریں ڈسکی کاٹن بگ کو پوری طرح تلف نہیں کرتیں۔ اس لئے حالیہ سالوں کے دوران ڈسکی کاٹن بگ کافی اہم کیڑا بن چکاہے۔ اس کی تلفی کے لئے بیٹا سائی ہیلو تھرین پنس ٹرائی ایز وقاس یا فپرونل 400 ملی لٹرسو لٹر پانی میں ملاکر سپرے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ پروفینوفاس بھی اس کیڑے کو 60سے70 فیصد تلف کرتی ہے۔

کپاس کی سنڈیاں:

کپاس کو نقصان پہنچانے والی سنڈیوں میں امریکن سنڈی، چتکبری سنڈی، لشکری سنڈی، گلابی سنڈی، چور کیڑا وغیرہ شامل ہیں۔ بی ٹی اقسام پر سنڈیوں کا حملہ کم ہوتاہے لیکن غیر بی ٹی اقسام پر سنڈیوں کا شدید حملہ ہوتاہے۔

امریکن سنڈی:

غیر جینیاتی اقسام پر امریکن سنڈی شدید حملہ کرتی ہے۔ حالیہ سالوں کے دوران امریکن سنڈی کے خلاف قوتِ مزا۔ حمت رکھنے والی اقسام کی کاشت فروغ پا چکی ہے۔ اس لئے آج کل اس سنڈی کے خلاف اس سے نچاؤ کے لئے چھوٹی سٹیج پر ایمامیکٹن سپرے کی جاسکتی ہے۔ اگر بے خبری کی وجہ سے سنڈیاں بڑی ہو جائیں تو سٹیوارڈ 175 ملی لٹر یا ٹریسر 80 ملی لٹر یا بیلٹ 50ملی لٹریا ریڈی اینٹ 100 ملی لٹر یا پروکلیم بحساب 200 ملی لٹر فی سو لٹر پانی ملا کر سپرے کی جاسکتی ہیں۔

چور کیڑا:

اس کی سنڈیاں کپاس کو اگنے کے پہلے ایک ماہ کے دوران نقصان پہنچاتی ہیں۔ آبپاشی اور بہری زمینوں میں ان کا حملہ کم ہوتاہے لیکن بارانی اور خشک حالات میں ان کا حملہ زیادہ شدید ہوتاہے۔ چو ر کیڑے کی سنڈیا ں کافی موٹی اور مضبوط اور گہرے مٹیالے رنگ کی ہوتی ہیں۔ یہ کے دن وقت فرداًفرداً زمین میں چھپی رہتی ہیں اور رات کے وقت نو خیز پودوں کو زمین کے برابر سے کاٹ دیتی ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لئے کراٹے 300 یا ٹال ا سٹار یا بائی فینتھرین 250 ملی لٹر یا اینڈ و سلفان 800 ملی لٹر سو لٹر پانی میں ملاکر شام کے وقت سپرے کی جاسکتی ہیں۔ پہلی آبپاشی کے ساتھ کلورپائری فاس فلڈ کردی جائے تو بھی اس کیڑے کا حملہ نہیں ہوتا۔

چتکبری سنڈی:

اس کا حملہ پھول آوری کے بعد شروع ہوتاہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے دیلٹا میتھرین 300 ملی لٹر یا ہائی فینتھرین 250 یا ٹریسر 80ملی لٹر فی ایکڑ استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹرائی ایزو فاس یا کراٹے بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔

لشکری سنڈی:

آلو کے بعد مارچ اپریل میں اگیتی کاشتہ کپاس پر لشکری سنڈی کا شدید حملہ ہوسکتاہے ۔ اس سے بچاؤ کے لئے لیوفینو ران یا میچ یا رنر 200 ملی لٹر یا ٹریسر 40 ملی لٹر یا بیلٹ25 ملی لٹر سو لٹر پانی ملاکر سپرے کی جاسکتی ہیں۔ اگر اس کا حملہ ابتدائی مرحلے پر پہچان لیاجائے تو ٹائمر یا پروکلیم یا ایما میکٹن بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔

گلابی سنڈی:

اس کا حملہ ستمبر اکتوبر میں زیادہ شدت کے ساتھ ہوسکتاہے۔ اس سے بچاؤ کے لئے مناسب تربیت کے بعد پچاس ایکڑ یا زیادہ رقبے پر کاشت کی صورت میں پی بی روپس استعمال کئے جائیں۔ بیس ایکڑ یا کم رقبے کی صورت میں تین چار فیر ومون ریپ لگائے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔زہروں میں ٹرائی ایزوفاس 1000 ملی لٹر یا ڈیلٹافاس 600 ملی لٹریا مومی الفا 200 ملی لٹر ستمبر میں بروقت پہچان کرکے سپرے کی جاسکتی ہیں۔ گلابی سنڈی کا بھر پور حملہ ہونے کے بعد کوئی بھی زہر سپرے کرنے کا فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لئے بر وقت پیسٹ سکاو ٹنگ کرنے کے بعد منا۔ سب زہر سپرے کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔