Goat farming feasibility report for 100 goats..Expenses to profit

**بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم **
**100 بکریوں کامیاب گوٹ فامنگ کیلئے مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیں گے۔ وژن vision اور متعلقہ شعبے میں علم و آگاہی کے بغیر کسی بھی کام میں کامیابی ممکن نہیں ۔
اندھا دھند انوسٹمنٹ سے پہلے اس سلسلے کو مکمل فالو کر لیں۔
اس ضمن میں انوسٹمنٹ سے زیادہ تجربہ اور مینجمنٹ ضروری ہے۔ کیونکہ غلط مینجمنٹ سے 100 بکریوں کا فارم تباہ ہو جاتا ہے جبکہ اچھی مینجمنٹ اور تجربہ سے 30 ٹیڈی بکریوں سے 400 بکریاں دو سال میں حاصل کر کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کمایا جا سکتا ہے۔ اسلئے علم تجربے اور مینجمنٹ پر زیارہ دھیان کی ضرورت ہے۔
------------------------------------------
کسی بھی پروجیکٹ میں نفع کا تعین اخراجات نکال کر کیا جاتا ہے۔ اگر پروجیکٹ کے اخراجات منافع سے زیادہ ہیں تو پھر پروجیکٹ نقصان میں ہے اور اگر پروجیکٹ کے اخراجات منافع سے کم ہے اور پھر نفع حاصل ہوا ہے۔ 
قیمت فروخت میں سے تمام قسم کے اخراجات کو منفی کیا جائے تو منافع یا نقصان نکل آتا ہے ۔ فرض کریں اس پوسٹ میں چالیس عدد بچوں کو چھ ماہ کی عمر میں پانچ ہزار فی بچہ فروخت کیا گیا ہے۔ 
اور فارم پر مندرجہ ذیل نوعیت کے اخراجات ہوئے ہیں 
بکریوں کو منڈی سے فارم پر لانے کا خرچہ یعنی گاڑی کا کرایہ
فارم پر کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ 
جانوروں پر خوراک کی مد میں اٹھنے والے اخراجات ( جو کہ زیادہ بچوں کی ماں نے کھائی )
جانوروں کو ادویات اور ٹیکہ جات پر اٹھنے والے اخراجات 
اگر جانور مر جاتا ہے تو اس کی قیمت بھی اخراجات میں شامل ہوگی۔ جو کہ غلط مینجمنٹ کی وجہ سے ایک طرح کا نقصان ہے
شیڈ کے دیگر اخراجات جیسے بجلی کا بل ، کوئی مرمت کا کام ، فوری نوعیت کے اخراجات جن کے بارے میں پہلے کوئی اندازہ نہیں تھا 
ان تمام اخراجات کو پہلے جمع کریں گئے پھر ان جانوروں کو فروخت کرنے سے جوقیمت حاصل ہوئی اس میں سے نفی کریں تو نفع نقصان نکل آئے گا۔ 
یاد رہے ہر طریقہ کار کی قیمت فروخت اور اخراجات الگ الگ ہوتے ہیں۔ لیکن فارم کا نفع نقصان نکالنے کا طریقہ ایک ہی ہے ۔ اس طریقہ کارکی مدد سے کسی بھی فارم کا نفع نقصان معلوم کیا جاسکتا ہے

------------------------------------------
***100بکریوں کی فزیبلٹی**
جانوروں کی اوسط قیمت 
100*25000= 2500000روپے 
نر جوان بکرے 4 عدد 
اوسط قیمت 30000 روپے 
30*4=120000 روپے 
کل تخمینہ 2620000
------------------------------------------
شیڈ 100 بکریوں اور 4 بکروں کیلئے 
15 بحساب مربعہ فٹ فی جانور
100000 روپے 
باؤنڈری وال کیلئے 
310000 روپے 

------------------------------------------
100 بکریوں سے سال میں بچوں کا اوسط تخمینہ
175*2=350 بچے لگایا گیا
بچوں کی رہائش کیلئے 8 لاکھ 50 ہزار روپے۔ 
------------------------------------------
سٹور 150000 روپے 
آفس لیبر کی رہائش وغیرہ 
200000 روپے 
------------------------------------------
سامان::
ٹوکہ مشین 
30000 روپے
گڈا 
15000 روپے 
واٹر پمپ 
20000 روپے 
لکڑی کی متحرک کھرلیاں 
40000 روپے 
بجلی کا کنکشن 
30000 روپے 
ٹب بالٹاں اور متفرق سامان کیلئے 
50000 روپے 
کل تخمینہ 
185000 روپے 
لیکن 2 لاکھ ہی لگالیں۔
------------------------------------------
قارئینِ محترم یہاں تک جو انوسٹمنٹ ہے یہ Permanent cost مستقل اخراجات جو کہ ایک ہی بار کرنے پڑیں گے۔ اسکا کل تخمینہ 5320000 روپے ہے۔ لیکن آپ 55 لاکھ کا بجٹ بنائیں۔

اب Running cost حاضرِ خدمت ہے۔
------------------------------------------
(فیڈ , فیڈنگ سسٹم اور چرگاہ پر مکمل پوسٹ کی جائے گی) 
اگر پچاس ایکڑ زمین میسر ہے تو چارے کا خرچ ایک روپہ فی جانور رہ جاتا ہے۔ 100 بکریوں کی لاگت 37200 روپے تقریباً 

ونڈہ فی جانور 500 گرام بحساب 20 روپے کلو دو دو ماہ کیلئے 
تقریباً 2 لاکھ روپے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔

ملازمین دو عدد 
15*2=30,000 روپے 
360,000 روپے سال کے 
بجلی کا بل بحساب 4000 روپے ماہانہ
4000*12=48000 روپے 
شیڈ کی مرمت چونا اور دیگر کام کیلئے 
150,000 روپے 
ویکسینیشن اور ادویات کا خرچ 
150,000 روپے 
------------------------------------------

چار سال کا پلان::
پہلے سال 100 بکریوں سے 350 بچے حاصل کئے۔
100------175+175=350
100------175+175=350
100------175+175=350
100------175+175=350 
350------1137 
= 2537

چار سال بعد 2537 بچے ہوں گے۔ لیکن آپ 1800 لگا لیں۔ اب بحساب 20,000 روپے فی جانور
1800*20,000= 36,000,000 

ابتداء میں 76 ٹن سالانہ کھاد بحساب 1500 روپے فی ٹن سالانہ اوسط

114,000 روپے
دودھ 90 لیٹر دورانیے کے حساب سے 65 روپے لیٹر 
متفرق اعداد
چمڑہ 
متفرق 
------------------------------------------
پہلے سال کے اخراجات کا تخمینہ ارو منافع ہے۔ دوسرے تیسرے اور چوتھے سال کی مینجمنٹ میں اس حساب سے تبدیلیا لائی جائیں