گوٹ فارمنگ میں چراگاہ
تحریر: سید مبشرعلی
جب بھی گوٹ فارمنگ کو شروع کرنا ہوتو اس کے لیے چراگاہ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چراگاہ سے مرا د ایک ایسی جگہ کا انتخاب ہے جہاںپر گوٹ دن کا کچھ حصہ چل پھر گذار سکیں۔
کیونکہ روایتی انداز کی نسبت جدید انداز میں کی گئی گوٹ فارمنگ زیادہ نفع کا باعث بنتی ہے۔ اور کم وقت، کم محنت اور کم سرمایہ سے منافع کمایا جاسکتا ہے۔
سب سے پہلے چراگاہ تیار کی جارہی ہے۔ چراگاہ چونکہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے اس لیے اس کی تصاویر شامل نہیں کررہا ، جونہی چراگاہ تیار ہوجاتی ہے تو اس کی تصاویر شامل کروں گا انشاءاللہ
تحریر: سید مبشرعلی
جب بھی گوٹ فارمنگ کو شروع کرنا ہوتو اس کے لیے چراگاہ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چراگاہ سے مرا د ایک ایسی جگہ کا انتخاب ہے جہاںپر گوٹ دن کا کچھ حصہ چل پھر گذار سکیں۔
کیونکہ روایتی انداز کی نسبت جدید انداز میں کی گئی گوٹ فارمنگ زیادہ نفع کا باعث بنتی ہے۔ اور کم وقت، کم محنت اور کم سرمایہ سے منافع کمایا جاسکتا ہے۔
سب سے پہلے چراگاہ تیار کی جارہی ہے۔ چراگاہ چونکہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے اس لیے اس کی تصاویر شامل نہیں کررہا ، جونہی چراگاہ تیار ہوجاتی ہے تو اس کی تصاویر شامل کروں گا انشاءاللہ
سب سے پہلے میں نے فارم کے لیے ٹیڈی نسل کی بکریوں سے بچے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
نسل کا انتخاب کرنے کے بعد فارم کی ابتدائی تیاری میں چراگا ہ سے آغا ز کیا۔
چراگاہ کا رقبہ تقریبا دس کنال ہے۔ اس رقبہ کو سب سے پہلے بانس کے ساتھ کور کیا۔
مارکیٹ میں مختلف سائز کے بانس دستیاب ہیںِ۔ اگرچراگاہ آبادی کے نزدیک ہے تو اس کے لیے موٹے بانس استمعال کئے جاتے ہیں تاکہ بڑے جانور چراگاہ میں داخل نہ ہوسکیں۔
میں نے دو طرح کے بانس استعمال کئے ایک کرکٹ وکٹ سے تھوڑا سا موٹا ہے اور دوسرا کا سائز کرکٹ وکٹ جتنا ہے۔ اور موٹے بانس کی لمبائی 6 فٹ ہے جوکہ دو فٹ زمین کے اندر ہے ، اور چار فٹ پر نو ، نو انچ کے فاصلے پر دائیں سے بائیں باریک بانس بذریعہ کیل نصب کیا گیا ہے۔
موٹا بانس فی عدد چالیس روپے ملا ہے، اور باریک بانس اٹھائیس روپے ملا ہے۔
چراگاہ کی کل لمبائی چوڑائی 650 فٹ ہے۔
650 فٹ کو دائیں بائیں استعمال ہونے والے باریک بانس کی لمبائی پر تقسیم کیا گیا توان کل بانس کی تعداد نکل آئی جوکہ ہم نے زمین کے اوپر گاڑنے ہیں یعنی 93 = 7 / 650 ترانوے ٹوٹل بانس استمعال ہوں گئے۔
6 فٹ لمبے بانس کی فی عدد قیمت 7 روپے فٹ کے حساب سے 42 روپے فی بانس بنتی ہے۔ اور اس طرح
93 بانس کی قیمت 3906 = 93x 42 روپے بنتی ہے۔
میں نے 6فٹ بانس میں سے 2فٹ زمین کے اندرسوراخ کرکے دبایا ۔ اور 4 فٹ زمین کے باہر رکھا۔ اب اس 4 فٹ میں مناسب فاصلہ رکھ کر 7 فٹ لمبائی والے باریک بانس دائیں سے بائیں لگانے ہیں۔
4فٹ بانس میں 5 عدد بانس زمین میں نصب ایک بانس پر استعمال ہوں گئے۔ 5 بانسوں کو اس طرح دائیں سے بائیں لگانا ہے کہ 5 بانسوں کے درمیان خالی جگہ کم سے کم رہے۔ تاکہ کوئی جانور دیوار پھلانگ نہ سکے۔
باریک بانس کی قیمت 28 روپے فی عدد ہے۔ 93 عدد بانس کو 5 سے ضرب دیں تو کل 465 عدد بانس بنتے ہیںِ فی بانس کی قیمت 28 روپے ہے۔ 28 کو 465 ساتھ ضرب دیں تو کل قیمت 13020 روپے بنتی ہے۔
نسل کا انتخاب کرنے کے بعد فارم کی ابتدائی تیاری میں چراگا ہ سے آغا ز کیا۔
چراگاہ کا رقبہ تقریبا دس کنال ہے۔ اس رقبہ کو سب سے پہلے بانس کے ساتھ کور کیا۔
مارکیٹ میں مختلف سائز کے بانس دستیاب ہیںِ۔ اگرچراگاہ آبادی کے نزدیک ہے تو اس کے لیے موٹے بانس استمعال کئے جاتے ہیں تاکہ بڑے جانور چراگاہ میں داخل نہ ہوسکیں۔
میں نے دو طرح کے بانس استعمال کئے ایک کرکٹ وکٹ سے تھوڑا سا موٹا ہے اور دوسرا کا سائز کرکٹ وکٹ جتنا ہے۔ اور موٹے بانس کی لمبائی 6 فٹ ہے جوکہ دو فٹ زمین کے اندر ہے ، اور چار فٹ پر نو ، نو انچ کے فاصلے پر دائیں سے بائیں باریک بانس بذریعہ کیل نصب کیا گیا ہے۔
موٹا بانس فی عدد چالیس روپے ملا ہے، اور باریک بانس اٹھائیس روپے ملا ہے۔
چراگاہ کی کل لمبائی چوڑائی 650 فٹ ہے۔
650 فٹ کو دائیں بائیں استعمال ہونے والے باریک بانس کی لمبائی پر تقسیم کیا گیا توان کل بانس کی تعداد نکل آئی جوکہ ہم نے زمین کے اوپر گاڑنے ہیں یعنی 93 = 7 / 650 ترانوے ٹوٹل بانس استمعال ہوں گئے۔
6 فٹ لمبے بانس کی فی عدد قیمت 7 روپے فٹ کے حساب سے 42 روپے فی بانس بنتی ہے۔ اور اس طرح
93 بانس کی قیمت 3906 = 93x 42 روپے بنتی ہے۔
میں نے 6فٹ بانس میں سے 2فٹ زمین کے اندرسوراخ کرکے دبایا ۔ اور 4 فٹ زمین کے باہر رکھا۔ اب اس 4 فٹ میں مناسب فاصلہ رکھ کر 7 فٹ لمبائی والے باریک بانس دائیں سے بائیں لگانے ہیں۔
4فٹ بانس میں 5 عدد بانس زمین میں نصب ایک بانس پر استعمال ہوں گئے۔ 5 بانسوں کو اس طرح دائیں سے بائیں لگانا ہے کہ 5 بانسوں کے درمیان خالی جگہ کم سے کم رہے۔ تاکہ کوئی جانور دیوار پھلانگ نہ سکے۔
باریک بانس کی قیمت 28 روپے فی عدد ہے۔ 93 عدد بانس کو 5 سے ضرب دیں تو کل 465 عدد بانس بنتے ہیںِ فی بانس کی قیمت 28 روپے ہے۔ 28 کو 465 ساتھ ضرب دیں تو کل قیمت 13020 روپے بنتی ہے۔
ان دو اقسام کے بانس کو جوڑنے کے لیے کیل بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں اور نرم تار بھی۔
کیل کے ساتھ بانس زیادہ مضبوطی سے جڑتے ہیں۔
نمبر1 بانس پر مناسب فاصلے پر 5 عدد بانس لگائے جائیں گئے۔ اور نمبر 2 بانس پر 10 عدد بانس لگائے جائیں گئے۔ ایک بانس آگے کی طرف اور دوسرا پیچھے کی طرف ایک لمبے کیل کے ساتھ لگایاجائے گا۔ اور کیل گاڑنے کے بعد باریک حصہ دوہرا کردیا جائے گا۔
اگر بانس میں کیل لگانے سے پہلے ڈرل سے تمام بانسوں میں سوراخ کرلیے جائیں اور چراگاہ میں جاکر بانسوں کو جوڑ لیا جائے تو بہتر رہے گا۔ ( اگر دوسراکوئی بہتر طریقہ ہے تو وہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے)
میں نے بانس مرحلہ وار خریدے تھے اور خود ہی موٹر سائیکل پر لے آئے تھے۔ اور چراگاہ میں سارا کام خود ہی کیا ۔چراگاہ تیار کرنے کی فزیبلٹی میں بانسوں کو لانے کا کرایہ ، چراگاہ میں بانس لگانے کی مزدوری شامل نہیں کی گئی۔
اس کے لیے دو کلو بڑے سائز کے کیل استعمال کئے گئے تھے جن کی قیمت 600 روپے ہے۔
موٹے بانس کی قیمت : 3906
باریک بانس کی قیمت: 13020
کیل کی قیمت : 600
مزدوری : 2000 ( 4 دن میں 93 عدد گڑھے کودھے جن کی گہرائی 2 فٹ فی گڑھا ہے)
بانس کو جوڑنا : 2000
دیگر اخراجات : 1000
کل اخراجات: : 22526 روپے
( سب سے زیادہ اخراجات بانس کی خریداری پر آتے ہیںِ۔ مارکیٹ میں مختلف سائز کے بانس دستیاب ہے۔ جن کی مختلف قیمتیں ہیںِ۔ سودا بازی اور مارکیٹ میں چل پھر کر لینے سے مزید سستا مل سکتا ہے۔ اگر بانس اپنا ہوتو پھر چراگا ہ بہت ہی سستے داموں تیار کی جاسکتی ہے۔ )
چراگاہ کے گرد بانس کی چار دیواری بنانے کے بعد اگلا مرحلہ اس چراگاہ میں توت، بکائین( دھریک) کیکر وغیرہ لگانے کا ہے۔
چراگاہ میں درخت لگانے کے بارے میں معلومات اگلی پوسٹ میں دی جائیں گئی۔
اس پوسٹ کو چراگاہ کی فزیبلٹی بھی کہہ سکتے ہیںِ اگر کوئی دوست اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیں تو ضرور کریں۔
آپ کی کامیابیوں کے لیے دعا گو: سید مبشر علی
کیل کے ساتھ بانس زیادہ مضبوطی سے جڑتے ہیں۔
نمبر1 بانس پر مناسب فاصلے پر 5 عدد بانس لگائے جائیں گئے۔ اور نمبر 2 بانس پر 10 عدد بانس لگائے جائیں گئے۔ ایک بانس آگے کی طرف اور دوسرا پیچھے کی طرف ایک لمبے کیل کے ساتھ لگایاجائے گا۔ اور کیل گاڑنے کے بعد باریک حصہ دوہرا کردیا جائے گا۔
اگر بانس میں کیل لگانے سے پہلے ڈرل سے تمام بانسوں میں سوراخ کرلیے جائیں اور چراگاہ میں جاکر بانسوں کو جوڑ لیا جائے تو بہتر رہے گا۔ ( اگر دوسراکوئی بہتر طریقہ ہے تو وہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے)
میں نے بانس مرحلہ وار خریدے تھے اور خود ہی موٹر سائیکل پر لے آئے تھے۔ اور چراگاہ میں سارا کام خود ہی کیا ۔چراگاہ تیار کرنے کی فزیبلٹی میں بانسوں کو لانے کا کرایہ ، چراگاہ میں بانس لگانے کی مزدوری شامل نہیں کی گئی۔
اس کے لیے دو کلو بڑے سائز کے کیل استعمال کئے گئے تھے جن کی قیمت 600 روپے ہے۔
موٹے بانس کی قیمت : 3906
باریک بانس کی قیمت: 13020
کیل کی قیمت : 600
مزدوری : 2000 ( 4 دن میں 93 عدد گڑھے کودھے جن کی گہرائی 2 فٹ فی گڑھا ہے)
بانس کو جوڑنا : 2000
دیگر اخراجات : 1000
کل اخراجات: : 22526 روپے
( سب سے زیادہ اخراجات بانس کی خریداری پر آتے ہیںِ۔ مارکیٹ میں مختلف سائز کے بانس دستیاب ہے۔ جن کی مختلف قیمتیں ہیںِ۔ سودا بازی اور مارکیٹ میں چل پھر کر لینے سے مزید سستا مل سکتا ہے۔ اگر بانس اپنا ہوتو پھر چراگا ہ بہت ہی سستے داموں تیار کی جاسکتی ہے۔ )
چراگاہ کے گرد بانس کی چار دیواری بنانے کے بعد اگلا مرحلہ اس چراگاہ میں توت، بکائین( دھریک) کیکر وغیرہ لگانے کا ہے۔
چراگاہ میں درخت لگانے کے بارے میں معلومات اگلی پوسٹ میں دی جائیں گئی۔
اس پوسٹ کو چراگاہ کی فزیبلٹی بھی کہہ سکتے ہیںِ اگر کوئی دوست اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیں تو ضرور کریں۔
آپ کی کامیابیوں کے لیے دعا گو: سید مبشر علی