کستوری (سب سے مہنگی خوشبو)
کستوری خوشبودار مادے کی ایک قسم ہے جو عطریات بنانے میں عام طور پر مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔اس میں شامل ہے جانوروں کا غدودی مادہ جیسے کہ کستوری مرگ ۔متعدد پودوں سے اسی طرح کی خوشبو نکلتی ہے ۔
اور مصنوعی مادے سے بھی اسی طرح کی خوشبو نکلتی ہے ۔
اصل کستوری نر کستوری ہرن کے غدود سے نکلنے والے تیز خوشبودار مادے کو کہا جاتا ہے ۔ یہ مادہ قدیم دور سے ایک مقبول خوشبو کے طور پر پر استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ مہنگی جانوروں کی مصنوعات میں سے ایک ہے ۔
کستوری ہرن Moschidae خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور نپیال ، بھارت ، پاکستان ، تبت ، چین ، سائبیریا اور منگولیا میں رہتا ہے ۔ کستوری حاصل کرنے کے لئے اسے مارنا پڑتا ہے ۔ اور غدور جو کہ کستوری تھیلی کہلاتی ہے اسے فورا اس کے جسم سے الگ کرنی پڑتی ہے ۔ کستوری تھیلی سےسرخی مائل بھورے رنگ کا کریمی مادہ نکلتا ہے جو سوکھ کر کالے دانوں میں تبدیل ہو جاتا ہے جنہیں کستوری دانے کہا جاتا ہے ۔
پھر اسے مختلف عرقوں میں ملا کر بہترین عطر تیار کیے جاتے ہیں ۔
(آیور ویدک) یا حکمت میں کستوری سے بہت سے نسخے بھی تیار کیے جاتے ہیں ۔
جو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ۔
کستوری کو دل و دماغ کی ادویات میں جزو اعظم کی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین طب نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہرمیدانی ہرن سے نافہ یا مشک کی تھیلی حاصل ہو سکتی ہے اور ایک خاص قسم کی بلی سے بھی نافہ نکلتا ہے ۔
کستوری ایک نہائیت ہی قیمتی اور کار آمد مرکب ہے اسے مختلف ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اصل کستوری کی پہچان
اصل کستوری کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اگر سوئی کو دھاگے سمیت لہسن کی پوتھی سے گزارا جائے اور پھر اس سوئی دھاگے کو نافے سے گزارا جائے اور لہسن کی بو غائب ہو جائے تو سمجھ لیں کہ کستوری خالص ہے۔ کستوری چونکہ بہت قیمتی اور نایاب ہے اس لیے نافہ میں خشک خون یا خشک کلیجی کا سفوف نافے میں وزن بڑہانے کے لیے ملا دیا جاتا ہے۔
لوگوں کا خیال ہے کہ ہر میدانی ہرن کے نافے سے مشک کی تھیلی برآمد ہوتی ہے۔ یا پھر ایک خاص قسم کی میدانی بلی سے بھی نافہ نکلتا ہے ۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ مضمو ن پیش کیا جا رہا ہے ۔ کستوری والا ہرن خاص جنگلوں میں آٹھ سے دس ہزار فٹ کی بلندی پر پایا جاتا ہے ۔
چین نیپال گلگت اور اور روس کے بالائی پہاڑی علاقوں میں یہ ہرن پایا جاتا ہے۔ یہاں اسکی باقائدہ فارمنگ کی جا رہی ہے۔ یہ بھورے رنگ کا ایک چھوٹا سا ہرن ہے ۔ جس کے بال بھورے اور گھا س کی طرح ہیں ۔ اس کے کان کافی لمبے قد ڈھائی تین فٹ اور اگلی ٹانگیں چھوٹی اور پچھلی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں ۔ نر ہرن کے منہ سے دو دانت نکل کر نچلی طرف بڑہے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مادہ کے دانت ایسے نہیں ہوتے۔ کستوری صرف نر سے نکلتی ہے۔ جو اس کی ناف میں تھیلی کی شکل میں ہوتی ہے ۔
حلال کرنے سے پہلے فوری طور پر اسے رسی سے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ خون میں تحلیل نہ ہو ۔ کستوری کلیجی کے رنگ جیسی گاڑھے سے محلول کی شکل میں ہوتی ہے جو کہ نکالنے کے بعد چند منٹوں میں جم کر سخت ہو جاتی ہے ۔ ناف میں بال نماء تھیلی کو بمعہ کھال کاٹ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔
کبوتروں کے شوقین حضرات اگر خشخاش کے دانے کے برابر کستوری انہیں کھلائیں تو کبوتر رات سے صبح تک اڑتا رہتا ہے بشرطیکہ کہ خالص کستوری ہو۔جس کا ملنا بہت مشکل ہے ۔ بہت سے ملکوں میں کستوری سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔اس عطر کی خوشبو نہائیت فرحت بخش اور دیر پا ہوتی ہے۔
کستوری خوشبودار مادے کی ایک قسم ہے جو عطریات بنانے میں عام طور پر مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔اس میں شامل ہے جانوروں کا غدودی مادہ جیسے کہ کستوری مرگ ۔متعدد پودوں سے اسی طرح کی خوشبو نکلتی ہے ۔
اور مصنوعی مادے سے بھی اسی طرح کی خوشبو نکلتی ہے ۔
اصل کستوری نر کستوری ہرن کے غدود سے نکلنے والے تیز خوشبودار مادے کو کہا جاتا ہے ۔ یہ مادہ قدیم دور سے ایک مقبول خوشبو کے طور پر پر استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ مہنگی جانوروں کی مصنوعات میں سے ایک ہے ۔
کستوری ہرن Moschidae خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور نپیال ، بھارت ، پاکستان ، تبت ، چین ، سائبیریا اور منگولیا میں رہتا ہے ۔ کستوری حاصل کرنے کے لئے اسے مارنا پڑتا ہے ۔ اور غدور جو کہ کستوری تھیلی کہلاتی ہے اسے فورا اس کے جسم سے الگ کرنی پڑتی ہے ۔ کستوری تھیلی سےسرخی مائل بھورے رنگ کا کریمی مادہ نکلتا ہے جو سوکھ کر کالے دانوں میں تبدیل ہو جاتا ہے جنہیں کستوری دانے کہا جاتا ہے ۔
پھر اسے مختلف عرقوں میں ملا کر بہترین عطر تیار کیے جاتے ہیں ۔
(آیور ویدک) یا حکمت میں کستوری سے بہت سے نسخے بھی تیار کیے جاتے ہیں ۔
جو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ۔
کستوری کو دل و دماغ کی ادویات میں جزو اعظم کی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین طب نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہرمیدانی ہرن سے نافہ یا مشک کی تھیلی حاصل ہو سکتی ہے اور ایک خاص قسم کی بلی سے بھی نافہ نکلتا ہے ۔
کستوری ایک نہائیت ہی قیمتی اور کار آمد مرکب ہے اسے مختلف ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اصل کستوری کی پہچان
اصل کستوری کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اگر سوئی کو دھاگے سمیت لہسن کی پوتھی سے گزارا جائے اور پھر اس سوئی دھاگے کو نافے سے گزارا جائے اور لہسن کی بو غائب ہو جائے تو سمجھ لیں کہ کستوری خالص ہے۔ کستوری چونکہ بہت قیمتی اور نایاب ہے اس لیے نافہ میں خشک خون یا خشک کلیجی کا سفوف نافے میں وزن بڑہانے کے لیے ملا دیا جاتا ہے۔
لوگوں کا خیال ہے کہ ہر میدانی ہرن کے نافے سے مشک کی تھیلی برآمد ہوتی ہے۔ یا پھر ایک خاص قسم کی میدانی بلی سے بھی نافہ نکلتا ہے ۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ مضمو ن پیش کیا جا رہا ہے ۔ کستوری والا ہرن خاص جنگلوں میں آٹھ سے دس ہزار فٹ کی بلندی پر پایا جاتا ہے ۔
چین نیپال گلگت اور اور روس کے بالائی پہاڑی علاقوں میں یہ ہرن پایا جاتا ہے۔ یہاں اسکی باقائدہ فارمنگ کی جا رہی ہے۔ یہ بھورے رنگ کا ایک چھوٹا سا ہرن ہے ۔ جس کے بال بھورے اور گھا س کی طرح ہیں ۔ اس کے کان کافی لمبے قد ڈھائی تین فٹ اور اگلی ٹانگیں چھوٹی اور پچھلی ٹانگیں لمبی ہوتی ہیں ۔ نر ہرن کے منہ سے دو دانت نکل کر نچلی طرف بڑہے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مادہ کے دانت ایسے نہیں ہوتے۔ کستوری صرف نر سے نکلتی ہے۔ جو اس کی ناف میں تھیلی کی شکل میں ہوتی ہے ۔
حلال کرنے سے پہلے فوری طور پر اسے رسی سے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ خون میں تحلیل نہ ہو ۔ کستوری کلیجی کے رنگ جیسی گاڑھے سے محلول کی شکل میں ہوتی ہے جو کہ نکالنے کے بعد چند منٹوں میں جم کر سخت ہو جاتی ہے ۔ ناف میں بال نماء تھیلی کو بمعہ کھال کاٹ کر محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔
کبوتروں کے شوقین حضرات اگر خشخاش کے دانے کے برابر کستوری انہیں کھلائیں تو کبوتر رات سے صبح تک اڑتا رہتا ہے بشرطیکہ کہ خالص کستوری ہو۔جس کا ملنا بہت مشکل ہے ۔ بہت سے ملکوں میں کستوری سے عطر تیار کیا جاتا ہے۔اس عطر کی خوشبو نہائیت فرحت بخش اور دیر پا ہوتی ہے۔