زعفران
ايک چھوٹا سا پودہ ہے جس کي اونچائي 10 سے 30 سانتيمتر تک ہوتي ہے اور اس کا سائنٹفک نام crocus sativus ہے-
زعفران کے کچھ باريک پتے ہيں، پتوں کے بيچ ميں زعفران کا تنا ہے جس پر پھول بن جاتا ہے ، اور ہر تنے کے اوپر ايک سے تين تک پھول بن جاتے ہيں- زعفران کے پھول وايليٹ ہيں اور ہر پھول کي چھ پھول کي پتيوں کي ہيں- زعفران کے پھولوں کے عمر 3 يا 4 دن ہوتي ہے-
دنيا ميں زعفران کي کھيتی ايشيا کے مختلف علاقوں ميں ہوتي ہے ، خاص طور پر ايشيا کے جنوبي حصے ميں اور يورپ اورسپين کے جنوبي حصے-
نام:
زعفران کے مختلف زبانوں میں مختلف نام ہیں۔ ہندی میں اس کو کیسر کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کا نام سیفرن ہے۔ لاطینی اور یونانی میں اس کو کروکس کہا جاتا ہے۔ بنگلہ میں اس کو جعفران کہتے ہیں۔
مقام پیدائش اور پہچان:
زعفران ایسی اونچی زمین میں بوتے ہیں جہاں پانی بالکل نہیں ٹھہرتا۔ اس کی جڑ آلو کی جڑ کی طرح ہوتی ہے۔ یہ سپین، اٹلی، شام، مصر، کشمیر اور ایران میں پیدا ہوتا ہے۔ زعفران کا درخت چھوٹا، پتے لمبے اور پتلے ہوتے ہیں۔ اس کا پھول نیلے رنگ کا ہوتا ہے جو نومبر دسمبر میں نکلتا ہے۔ اس پھول کے اندر نارنجی رنگ کے ریشے کو زعفران کہتے ہیں۔ جب پھول کھلنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کو بہت تڑکے تاروں کی چھاؤں میں توڑتے ہیں۔ ان کے اندر کے ریشوں کو چن کر سفید کاغذ پر پھیلا کر انہیں حرارت دے کر خشک کر لیتے ہیں۔ اس کے ۳۰ ہزار پھولوں سے ۲۵۰ گرام کے قریب زعفران نکلتی ہے۔
آج کل زعفران کي کھيتی دنيا کے دوسرے علاقوں ميں بھي ہوتي ہے-
ايران ميں زعفران کو خراسان ، يزد، کرمان، گيلان اور مازندران کے صوبوں ميں کشت کي جاتي ہے- ان دنوں ميں زعفران کرج اور قم ميں بھي پيدا کيا جانے لگا ہے- زعفران کے بونے کا کام ايران ميں کافي پرانا ہے - قريب 3000 سالوں سے ايران ميں زعفران کي کھيٹي کي جاتي ہے- زعفران صحرا کے مٹي ميں بويا جاتا ہے اس ليے اسے "لال سونا" يا "صحرا کا سونا' بھي کہاجاتا ہے-
خاص پہچان اور مزاج:
زعفران کو زبان پر رکھیں تو زبان پر تھوڑی سی جلن ہوتی ہے اور زبان سے خوشبو آتی ہے۔ اس کا رنگ زردی مائل سرخ ہوتا ہے۔ اس کے ریشے کے دونوں سرے برابر ہوتے ہیں۔ اس کا سوکھا ہوا ریشہ باریک اور ہلکا ہوتا ہے۔ اس کا مزاج بہت زیادہ گرم نہیں ہوتا۔ یہ دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے میں خشک ہے۔
تاريخچہ:
زعفران کھانے کے مزے کو اچھا بنانے اور کپڑوں کو رنگ کرنے کے ليے اور ترقي پذير ممالک ميں صنعت گروں کے ذريعے سے استعمال ہوتا ہے-
عام ثقافت ميں زعفران درد کو کم کرنے اور جنسي طاقت کو بڑھانے کے ليے اورمزيدچين اور سکون کے ليے استعمال ہوتا ہے-
ايشيا کے استوايي علاقوں کے گذشتہ رپورٹوں اور کہانيوں ميں ايک خمير کا نام موجود ہے جو زعفران اور چندن کي لکڑي سے بنايا جاتا ہے - يہ خمير اب ماضي جيسے درد کو کم کرنے اور تسکين دينے کے ليے اورخصوصاً سوکھے کھال کے ليے استعمال ہوتا ہے
زعفران کي کاشت:
زعفران ايک مہنگا پودا ہے جس کي کاشت کرنے کے ليے کسانوں کو زيادہ خرچہ نہيں پڑتا - اگر زعفران کا اچھے سے ہر وقت خيال رکھا جائے تو زعفران کي کھيتي کسانوں کے ليے بہت ہي فائدہ مند ہوتي ہے -
زعفران ايک tropical پودا ہے اور اس کي کھيتي ان علاقوں (جگہوں) ميں کي جاتي ہے جہاں پر نہ زيادہ ٹھندا ہو اور نہ زيادہ گرمي-
ايران ميں زعفران کي کھيتي کي اصل جگہ خراسان کے جنوب کے ريگستاني اور کم آب علاقوں ميں ہے-
آبان سے ارديبہشت تک زعفران کي کاشت ہو جاتي ہے- گرميوں کے آنے سے زعفران کے پتے سکھے اور پيلے ہوجاتے ہيں -
زعفران کي بيج کو کئي علاقوں ميں سات سے دس سالوں تک ايک بار بويا جاتا ہے - ايک بار بونے پر کئي سالوں تک اس کي فصليں خود بہ خود رشد و نمو کرکے تيار ہوجاتي ہيں اور اس کے ليے ہر سال بيج بونے کي ضرورت نہيں ہوتي-
زعفران کو سال ميں دو بار پاني دينے کي ضرورت ہے- ايک بار فصل تيار ہونے سے پہلے اور ايک دفعہ فصل کاٹنے کے وقت -
ايک گرام زعفران قريباً 150 پھولوں کي پتيوں سے حاصل ہوتا ہے-
ايران ميں ہر سال زعفران کي پيداوار 100 ٹن کے قريب ہوتي ہے اور ايران ميں زعفران کي کاشت کرنے ميں پہلي پوزيشن پر ہے - ايران کے بعد زعفران کي سب سے بڑي پيداوار سپين ميں ہوتي ہے اور سپين کے بعد ہندوستان ، روسيہ، سنگاپور، مالزي،جاپان، تايوان، چين، فرنچ، اٹلي،جرمن،آسٹراليا اور يونان تيسري پوزيشن پر ہيں - ان ملکوں ميں ہر سال 25 ٹن زعفران کي پيداوارحاصل ہوتي ہے-
ايک چھوٹا سا پودہ ہے جس کي اونچائي 10 سے 30 سانتيمتر تک ہوتي ہے اور اس کا سائنٹفک نام crocus sativus ہے-
زعفران کے کچھ باريک پتے ہيں، پتوں کے بيچ ميں زعفران کا تنا ہے جس پر پھول بن جاتا ہے ، اور ہر تنے کے اوپر ايک سے تين تک پھول بن جاتے ہيں- زعفران کے پھول وايليٹ ہيں اور ہر پھول کي چھ پھول کي پتيوں کي ہيں- زعفران کے پھولوں کے عمر 3 يا 4 دن ہوتي ہے-
دنيا ميں زعفران کي کھيتی ايشيا کے مختلف علاقوں ميں ہوتي ہے ، خاص طور پر ايشيا کے جنوبي حصے ميں اور يورپ اورسپين کے جنوبي حصے-
نام:
زعفران کے مختلف زبانوں میں مختلف نام ہیں۔ ہندی میں اس کو کیسر کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کا نام سیفرن ہے۔ لاطینی اور یونانی میں اس کو کروکس کہا جاتا ہے۔ بنگلہ میں اس کو جعفران کہتے ہیں۔
مقام پیدائش اور پہچان:
زعفران ایسی اونچی زمین میں بوتے ہیں جہاں پانی بالکل نہیں ٹھہرتا۔ اس کی جڑ آلو کی جڑ کی طرح ہوتی ہے۔ یہ سپین، اٹلی، شام، مصر، کشمیر اور ایران میں پیدا ہوتا ہے۔ زعفران کا درخت چھوٹا، پتے لمبے اور پتلے ہوتے ہیں۔ اس کا پھول نیلے رنگ کا ہوتا ہے جو نومبر دسمبر میں نکلتا ہے۔ اس پھول کے اندر نارنجی رنگ کے ریشے کو زعفران کہتے ہیں۔ جب پھول کھلنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کو بہت تڑکے تاروں کی چھاؤں میں توڑتے ہیں۔ ان کے اندر کے ریشوں کو چن کر سفید کاغذ پر پھیلا کر انہیں حرارت دے کر خشک کر لیتے ہیں۔ اس کے ۳۰ ہزار پھولوں سے ۲۵۰ گرام کے قریب زعفران نکلتی ہے۔
آج کل زعفران کي کھيتی دنيا کے دوسرے علاقوں ميں بھي ہوتي ہے-
ايران ميں زعفران کو خراسان ، يزد، کرمان، گيلان اور مازندران کے صوبوں ميں کشت کي جاتي ہے- ان دنوں ميں زعفران کرج اور قم ميں بھي پيدا کيا جانے لگا ہے- زعفران کے بونے کا کام ايران ميں کافي پرانا ہے - قريب 3000 سالوں سے ايران ميں زعفران کي کھيٹي کي جاتي ہے- زعفران صحرا کے مٹي ميں بويا جاتا ہے اس ليے اسے "لال سونا" يا "صحرا کا سونا' بھي کہاجاتا ہے-
خاص پہچان اور مزاج:
زعفران کو زبان پر رکھیں تو زبان پر تھوڑی سی جلن ہوتی ہے اور زبان سے خوشبو آتی ہے۔ اس کا رنگ زردی مائل سرخ ہوتا ہے۔ اس کے ریشے کے دونوں سرے برابر ہوتے ہیں۔ اس کا سوکھا ہوا ریشہ باریک اور ہلکا ہوتا ہے۔ اس کا مزاج بہت زیادہ گرم نہیں ہوتا۔ یہ دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے میں خشک ہے۔
تاريخچہ:
زعفران کھانے کے مزے کو اچھا بنانے اور کپڑوں کو رنگ کرنے کے ليے اور ترقي پذير ممالک ميں صنعت گروں کے ذريعے سے استعمال ہوتا ہے-
عام ثقافت ميں زعفران درد کو کم کرنے اور جنسي طاقت کو بڑھانے کے ليے اورمزيدچين اور سکون کے ليے استعمال ہوتا ہے-
ايشيا کے استوايي علاقوں کے گذشتہ رپورٹوں اور کہانيوں ميں ايک خمير کا نام موجود ہے جو زعفران اور چندن کي لکڑي سے بنايا جاتا ہے - يہ خمير اب ماضي جيسے درد کو کم کرنے اور تسکين دينے کے ليے اورخصوصاً سوکھے کھال کے ليے استعمال ہوتا ہے
زعفران کي کاشت:
زعفران ايک مہنگا پودا ہے جس کي کاشت کرنے کے ليے کسانوں کو زيادہ خرچہ نہيں پڑتا - اگر زعفران کا اچھے سے ہر وقت خيال رکھا جائے تو زعفران کي کھيتي کسانوں کے ليے بہت ہي فائدہ مند ہوتي ہے -
زعفران ايک tropical پودا ہے اور اس کي کھيتي ان علاقوں (جگہوں) ميں کي جاتي ہے جہاں پر نہ زيادہ ٹھندا ہو اور نہ زيادہ گرمي-
ايران ميں زعفران کي کھيتي کي اصل جگہ خراسان کے جنوب کے ريگستاني اور کم آب علاقوں ميں ہے-
آبان سے ارديبہشت تک زعفران کي کاشت ہو جاتي ہے- گرميوں کے آنے سے زعفران کے پتے سکھے اور پيلے ہوجاتے ہيں -
زعفران کي بيج کو کئي علاقوں ميں سات سے دس سالوں تک ايک بار بويا جاتا ہے - ايک بار بونے پر کئي سالوں تک اس کي فصليں خود بہ خود رشد و نمو کرکے تيار ہوجاتي ہيں اور اس کے ليے ہر سال بيج بونے کي ضرورت نہيں ہوتي-
زعفران کو سال ميں دو بار پاني دينے کي ضرورت ہے- ايک بار فصل تيار ہونے سے پہلے اور ايک دفعہ فصل کاٹنے کے وقت -
ايک گرام زعفران قريباً 150 پھولوں کي پتيوں سے حاصل ہوتا ہے-
ايران ميں ہر سال زعفران کي پيداوار 100 ٹن کے قريب ہوتي ہے اور ايران ميں زعفران کي کاشت کرنے ميں پہلي پوزيشن پر ہے - ايران کے بعد زعفران کي سب سے بڑي پيداوار سپين ميں ہوتي ہے اور سپين کے بعد ہندوستان ، روسيہ، سنگاپور، مالزي،جاپان، تايوان، چين، فرنچ، اٹلي،جرمن،آسٹراليا اور يونان تيسري پوزيشن پر ہيں - ان ملکوں ميں ہر سال 25 ٹن زعفران کي پيداوارحاصل ہوتي ہے-
