زیرے کی کاشت
موسم
۔ ۔ ۔ زیرے کی کاشت کیلئے وہ علاقہ جات بہتر ہوتے ہیں جہاں بارشیں اور نمی بہت کم ہوں اس کے علاوہ گرمی کو اور سردی کو زیرا پسند کرتا ہے زیادہ بارشیں اور نمی اس کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
مٹی
۔ ۔ ۔ زیرے کیلئے Loamy Soil یعنی بھربھری جسے ہم ریتلی +نامیاتی مادہ+چکنی مٹی کہتے ہیں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہیں رہتا۔
اگر کمرشل پیداوار لینی ہو تو وہ زمین Selectکریں جس میں تین سے چار سال پہلے زیرا کاشت نا کیا گیا ہو۔
وقت کاشت
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے معتدل گرم اور سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اکتوبر اور نومبر میں اسکی کاشت کی جاتی ہے۔
کاشت کا طریقہ
اس کو ایک ایکڑ میں بہت سی چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنا کر اس میں بیج کا چھٹا دے کر بیج کو نیچے دبا دیا جاتا ہے جیسے ہم دھان کی پنیری لگاتے ہیں ویسے ہی دھان کی پنیری کی طرح ایک ایکڑ میں بڑی بڑی کیاریاں بنا کر بیج کا چھٹا دے کر زیرا کاشت کیا جاتا ہے۔
بیج کی مقدار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایکڑ میں 5 سے 6 کلو بیج کی ضرورت ہوتی ہے اگر آپ زیرہ کاشت کر رہے ہیں تو۔
جڑی بوٹیاں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جڑی بوٹیاں ایک بہت ہی بڑا مسئلہ ہے زیرے کی فصل میں جیسے ہی جڑی بوٹیاں نظر آئیں فوری ان کو زمین سے کسی بھی طریقہ سے تلف کر دیں۔
پانی
۔ ۔ ۔ بیج لگانے کے بعد ایک پانی بھر کے لگائیں اور دوسرا پانی 7 سے 10 دن میں لگا دیں۔ تیسرا پانی تب لگائیں جب آپکو معلوم ہو کے اب پودے سیڈز تیار کرنا شروع کر رہے ہیں۔
نوٹ
۔ ۔ ۔ جب سیڈز بن جائیں تو کبھی بھی پانی نہیں لگانا چاہیے اس سے پوڈری اور تیلے وغیرہ کی بیماریوں کا حملہ بھی ہو جتا ہے اور زیرا بھی اچھی طرح نہیں تیار ہوتا۔
کھادیں
۔ ۔ ۔ ۔ اگر تو اس سے پہلے والی فصل میں آپنے گوبر ڈالی تھی اسی جگہ پر اگر زیرا لگانا چاہتے ہیں تو گوبر ڈالنے کی ضرورت نہیں اگر نہیں ڈالی تو تین سے چار ٹن گوبر زمین کی تیاری کے وقت ڈال دیں۔
پوٹاش +فاسفورس +نائٹروجن کے دس دس کلو بیج لگاتے وقت زمین میں ڈال دیں اور جب فصل سیڈز تیار کرنے لگے تو دس دس کلو اور دے دیں اتنی کھاد بہت ہے ۔
کٹائی اور پیداوار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کو مارچ اپریل میں کاٹا جاتا ہے اور بہت احتیاط کے ساتھ کاٹا جاتا ہے تاکے کوئی بیماری والا یا فنگس والا پودا ساتھ نہ کٹا جائے۔
جیسے سرسوں کو دھوپ میں خوشک جگہ پر رکھا کر سوکھایا جاتا ہے ویسے ہی اسے سوکھایا جاتا ہے اور اس کو چھانٹ کت کر اچھی طرح صاف کر کے تھیلوں میں بھر کے سیل کیا جاتا ہے ۔ جتنی صفائی اچھی ہوگی اتنا مارکیٹ ریٹ اچھا ملے گا۔
پیداوار کو دیکھا جائے تو انڈیا میں جہاں اس کی بہت زیادہ کاشت ہوتی ہے ایک ہیکٹر جو
2.47105
ایکڑ کے برابر کہا جاتا ہے پر 500 کلو سے 800 کلو تک Yieldآجاتی ہے۔
موسم
۔ ۔ ۔ زیرے کی کاشت کیلئے وہ علاقہ جات بہتر ہوتے ہیں جہاں بارشیں اور نمی بہت کم ہوں اس کے علاوہ گرمی کو اور سردی کو زیرا پسند کرتا ہے زیادہ بارشیں اور نمی اس کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
مٹی
۔ ۔ ۔ زیرے کیلئے Loamy Soil یعنی بھربھری جسے ہم ریتلی +نامیاتی مادہ+چکنی مٹی کہتے ہیں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہیں رہتا۔
اگر کمرشل پیداوار لینی ہو تو وہ زمین Selectکریں جس میں تین سے چار سال پہلے زیرا کاشت نا کیا گیا ہو۔
وقت کاشت
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے معتدل گرم اور سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اکتوبر اور نومبر میں اسکی کاشت کی جاتی ہے۔
کاشت کا طریقہ
اس کو ایک ایکڑ میں بہت سی چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنا کر اس میں بیج کا چھٹا دے کر بیج کو نیچے دبا دیا جاتا ہے جیسے ہم دھان کی پنیری لگاتے ہیں ویسے ہی دھان کی پنیری کی طرح ایک ایکڑ میں بڑی بڑی کیاریاں بنا کر بیج کا چھٹا دے کر زیرا کاشت کیا جاتا ہے۔
بیج کی مقدار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایکڑ میں 5 سے 6 کلو بیج کی ضرورت ہوتی ہے اگر آپ زیرہ کاشت کر رہے ہیں تو۔
جڑی بوٹیاں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جڑی بوٹیاں ایک بہت ہی بڑا مسئلہ ہے زیرے کی فصل میں جیسے ہی جڑی بوٹیاں نظر آئیں فوری ان کو زمین سے کسی بھی طریقہ سے تلف کر دیں۔
پانی
۔ ۔ ۔ بیج لگانے کے بعد ایک پانی بھر کے لگائیں اور دوسرا پانی 7 سے 10 دن میں لگا دیں۔ تیسرا پانی تب لگائیں جب آپکو معلوم ہو کے اب پودے سیڈز تیار کرنا شروع کر رہے ہیں۔
نوٹ
۔ ۔ ۔ جب سیڈز بن جائیں تو کبھی بھی پانی نہیں لگانا چاہیے اس سے پوڈری اور تیلے وغیرہ کی بیماریوں کا حملہ بھی ہو جتا ہے اور زیرا بھی اچھی طرح نہیں تیار ہوتا۔
کھادیں
۔ ۔ ۔ ۔ اگر تو اس سے پہلے والی فصل میں آپنے گوبر ڈالی تھی اسی جگہ پر اگر زیرا لگانا چاہتے ہیں تو گوبر ڈالنے کی ضرورت نہیں اگر نہیں ڈالی تو تین سے چار ٹن گوبر زمین کی تیاری کے وقت ڈال دیں۔
پوٹاش +فاسفورس +نائٹروجن کے دس دس کلو بیج لگاتے وقت زمین میں ڈال دیں اور جب فصل سیڈز تیار کرنے لگے تو دس دس کلو اور دے دیں اتنی کھاد بہت ہے ۔
کٹائی اور پیداوار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کو مارچ اپریل میں کاٹا جاتا ہے اور بہت احتیاط کے ساتھ کاٹا جاتا ہے تاکے کوئی بیماری والا یا فنگس والا پودا ساتھ نہ کٹا جائے۔
جیسے سرسوں کو دھوپ میں خوشک جگہ پر رکھا کر سوکھایا جاتا ہے ویسے ہی اسے سوکھایا جاتا ہے اور اس کو چھانٹ کت کر اچھی طرح صاف کر کے تھیلوں میں بھر کے سیل کیا جاتا ہے ۔ جتنی صفائی اچھی ہوگی اتنا مارکیٹ ریٹ اچھا ملے گا۔
پیداوار کو دیکھا جائے تو انڈیا میں جہاں اس کی بہت زیادہ کاشت ہوتی ہے ایک ہیکٹر جو
2.47105
ایکڑ کے برابر کہا جاتا ہے پر 500 کلو سے 800 کلو تک Yieldآجاتی ہے۔