گنا مِل کو دیں یا گڑ بنائیں؟ حساب پیشِ خدمت ہے

گنا مِل کو دیں یا گڑ بنائیں؟ حساب پیشِ خدمت ہے
گزشتہ چند دنوں سے ہمارے کئی کسان بھائی دیگر کسانوں‌ کو ترغیب دے رہے ہیں کہ کہ گنے کے موجودہ بحران کے پیشِ نظر گڑ بنا نا ایک نفع بخش عمل ہے. اس سوچ نے مزید کئی سوالوں کو جنم دیا ہے. جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر گڑ بنا بھی لیا جائے تو اس سے کتنی بچت ہو سکتی ہے؟ اسی بات کے پیشِ نظر، ایگری اخبار، آپ سب کی رہنمائی کے لئے گڑ اور مِل کا موازنہ پیش کر رہا ہے. امید ہے یہ موازنہ کسان بھائیوں کو بہتر فیصلہ کرنے میں معاون ثابت ہو گا.
ایک ایکڑ کماد سے گڑبنا نے کی صورت میں کتنی آمدن ہو گی؟
اگر گنے کا وزن 800 من فی ایکڑ مان لیا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ 80 من (بحساب 10 فیصد) گڑ بنے گا۔
منڈی میں آج کل گڑ کی قیمت، کوالٹی کے لحاظ سے 1500 سے لیکر 2200 روپے فی من تک ہے۔ درمیانہ گڑ 1600 روپے فی من کے حساب سے باآسانی فروخت ہو جاتا ہے۔
اس طرح 80 من گڑ کی آمدن 1600 روپے فی من کے حساب سے ایک لاکھ 28 ہزار روپے بنتی ہے۔
لیکن اگر آپ کا گڑ اچھا ہے تو منڈی میں قیمت 2 ہزار تک لگ سکتی ہے.
ایسی صورت میں آپ کی آمدن ایک لاکھ 60 ہزارتک بڑھ جائے گی.
ایک ایکڑ کماد سے گڑ بنانے کا خرچہ کتنا آئے گا؟
ویسے تو خرچہ علاقے کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے لیکن عام طور پردیکھا جائے تو کم از کم چار مزدور گنے کی چھلائی سے لے کر گڑ بنانے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔
گنے کی چھلائی پڑائی کا روائیتی ریٹ کچھ یوں ہے کہ 20 پَتوں کے پیچھے ہر مزدور ایک پَت بطور مزدوری لیتا ہے۔ (ایک پت سے تقریبا 18 کلو گڑ نکلتا ہے).
اس کا مطلب ہے 20 پَتوں کی مزدوری چار پتیں۔ (یہ ضلع بہاولنگر کا ریٹ ہے- آپ اپنے علاقے کے لحاظ سے حساب لگائیں)
ضرب تقسیم کرنے سے آپ خود معلوم کر سکتے ہیں کہ 80 من گڑ بنانے کے لئے 20 من گڑ مزدوری میں نکل جائے گا۔
اگر آج کل کا ریٹ لگا لیا جائے تو 80 من گڑ بنانے کی مزدوری 32 ہزار روپے بنے گی۔
اسی طرح بیلنا چلانے کے لئے ٹریکٹر یا پیٹر انجن کے خرچ فی ایکڑ 6000 روپے تک ہو جاتا ہے ہے. لہذا کل خرچ 38 ہزار روپیہ بنتا ہے.
گڑ بنا کر ایک ایکڑ سے کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے؟
جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ ایک ایکڑ سے تیار ہونے والے گڑ کی آمدن ایک لاکھ 28 ہزار روپے ہے۔ اگر 38000 روپے خرچہ نکال دیا جائے تو کسان کا خالص منافع 90 ہزار بنتا ہے۔
لیکن اگر آپ کا گڑ2 ہزار روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو جااتا ہے تو آپ کی آمدن ایک لاکھ 60 ہزار تک بڑھ جائے گی اور خالص منافع ایک لاکھ 22 ہزار روپے تک ہو جائے گا.
آئیے اب گنا مل کو فروخت کرنے کا حساب لگاتے ہیں۔
ایک ایکڑ کا گنا مل کو بیچنے سے کیا آمدن ہوگی؟
جیسا کہ ہم 800 من فی ایکڑ گنے کی پیداوار کو سامنے رکھتے ہوئے حساب لگا رہے ہیں۔ لہذا گنے کے سرکاری ریٹ (180 روپے فی من) کے مطابق فی ایکڑ آمدن ایک لاکھ 44 ہزار ہو گی۔
ایک ایکڑ گنا مل کو سپلائی کرنے کا خرچہ کتنا ہے؟
گنا مل کو سپلائی کرنے کے لئے دو طرح کے اخراجات ہوتے ہیں۔
ایک ہے چھلائی لدائی اور دوسرے کرایہ۔
چھلائی لدائی کا ریٹ مختلف علاقوں میں مختلف ہے اوسطا یہ ریٹ 25 روپے فی من ہے۔
اسی طرح کرائے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کا رقبہ مل سے کتنی دور ہے۔ عام طور پر 50 پیسہ فی کلو میٹر فی من کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مِل 30 کلومیٹر دور ہے تو فی من کرایہ 15 روپے بنے گا۔
اس طرح ایک من گنے پر چھلائی لدائی اور کرائے کا خرچہ 45 روپے فی من ہو گا۔
45 روپے فی من کے حساب سے 800 من گنے پر آپ کا خرچہ 36000 روپے آئے گا۔
گنا مل کو فروخت کرنے پر منافع کتنا ہو گا۔
ایک لاکھ 44 ہزار میں سے اگر آپ خرچ 36000 روپے نکال دیں تو آپ کا خالص منافع ایک لاکھ 8 ہزار روپے بنے گا۔
سرکاری ریٹ سے کم قیمت ملنے اور کاٹ لگنے کی صورت میں منافع کتنا گھٹے گا؟
اگر آپ کا گنا 180 کی بجائے 140 روپے میں فروخت ہوتا ہے اور 10 (ایک من پیچھے 4 کلو) فی صد کاٹ بھی لگ جاتی ہے تو پھر آپ کا منافع انتہائی کم ہو جائے گا۔
40 روپے فی من منافع میں کمی کا مطلب ہے 32000 روپے کی کمی.
اور 10 فیصد کاٹ کا مطلب ہے800 من کے پیچھے 80 من گنے کی کاٹ، جس کی قیمت 140 روپے کے حساب سے تقریبا 11 ہزار بنتی ہے۔
اس طرح ریٹ میں 40 روپے فی من کمی اور 10 فی صد کاٹ کے بعد آپ کا منافع مزید 43 ہزار (32 ہزار جمع گیارہ ہزار) روپے کم ہو کر 65 ہزار رہ جائے گا۔
المختصر
گڑ بنانے کی صورت میں فی ایکڑ زیادہ سے زیادہ منافع – – – ایک لاکھ 22 ہزار اور کم سے کم منافع – – – 90 ہزار
مل کو گنا بیچنے کی صورت میں فی ایکڑ زیادہ سے زیادہ منافع – – -ایک لاکھ 8 ہزار اور کم سے کم 65 ہزار
اب آپ نے اپنے حالات دیکھ کر خود فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کو گڑ بنانا چاہیئے یا گنا مل کو ہی سپلائی کرنا زیادہ بہتر ہے.
منقول

Comments