فاسفورک ایسڈ مارکیت میں عام طور پر درآمد شدہ دستیاب ھے, یہ 75% اور 85% شکل میں کین کی صورت کیمیکل کی دکانوں سے مل جاتا ھے, اس کا زیادہ تر استعمال کولا مشروبات میں ھوتا ھے, جیسے پیپسی کولا اور کوکا کولا وغیرہ,
فاسفورک ایسڈ سے فاسفورسی کھادیں جیسے ڈی اے پی وغیرہ بھی تیار کی جاتی ھیں,
ڈی اے پی تیار کرتے وقت فاسفورک ایسڈ میں کیلشیم کے مرکبات ( جیسے کیلشیم ھایڈرو آکسایڈ, جسے عام زبان میں کاستک سوڈا کہتے ھیں) شامل کیا جاتا ھے , چونکہ کاستک سوڈا ایک الکلی ھے, اسکو شامل کرنے سے ڈی اے پی مرکب بھی الکلاین بنتا ھے, یاد رھے کہ ڈی اے پی کھاد کی پی ایچ 9 ھے,
چونکہ پاکستان کی زیادہ تر زمینیں الکلاین ھیں, تو ھماری فصلوں کو فاسفورس کی فراھمی کیلیے سب سے بہتر فاسفورسی کھاد فاسفورک ایسڈ ھے,
مارکیت میں موجود فاسفورک ایسڈ 85% یا 75% والا فوڈ گریڈ ھے,
زرعی مقاصد کیلیے treated فاسفورک ایسڈ 20% زیادہ بہتر ھے, یہ سایل گریڈ فاسفورک ایسڈ کہلاتا ھے,
یہ ھماری کلراتھی زمینوں سے کلر ختم کرتا ھے, جبکہ زرخیز رقبوں کیلیے لاجواب ھے,
پاکستانی زمینوں پر کویء فاسفورسی کھاد, تی ایس پی, ڈی اے پی, ایس ایس پی, زرخیز, وغیرہ فاسفورک ایسڈ 20% ( fertile) کا مقابلہ نہیں کر سکتی, اس بات کی تصدیق تو اب نیاب فیصل آباد نے بھی کر دی ھے,
پاکستانی زمینوں کا سب سے بڑا مسلہ چونے ( کیلشیم کاربونیت) کی نقصان دہ حد تک زیادتی ھے, ھماری زمینوں کیلیے وہ کھادیں زیادہ فایدہ مند ھیں جن میں کیلشیم نہ ھو,جبکہ مروجہ تمام کھادیں کیلشیم کی حامل ھیں, ان کھادوں کو جب ھم اپنی زمینوں میں ڈالتے ھیں تو ان کا بڑا حصہ پتھر ( ترایء کیلشیم فاسفیت) بن جاتا ھے, یوں ایک تو ھماری رقم ضایع ھو جاتی ھے, دوسرے ھماری فصلوں کو فاسفورس بھی کم دستیاب ھوتی ھے,
پس فاسفورک ایسڈ 20% ھی ھماری زمینوں کیلیے سب سے بہتر فاسفورسی کھاد ھے,
فاسفورک ایسڈ سے فاسفورسی کھادیں جیسے ڈی اے پی وغیرہ بھی تیار کی جاتی ھیں,
ڈی اے پی تیار کرتے وقت فاسفورک ایسڈ میں کیلشیم کے مرکبات ( جیسے کیلشیم ھایڈرو آکسایڈ, جسے عام زبان میں کاستک سوڈا کہتے ھیں) شامل کیا جاتا ھے , چونکہ کاستک سوڈا ایک الکلی ھے, اسکو شامل کرنے سے ڈی اے پی مرکب بھی الکلاین بنتا ھے, یاد رھے کہ ڈی اے پی کھاد کی پی ایچ 9 ھے,
چونکہ پاکستان کی زیادہ تر زمینیں الکلاین ھیں, تو ھماری فصلوں کو فاسفورس کی فراھمی کیلیے سب سے بہتر فاسفورسی کھاد فاسفورک ایسڈ ھے,
مارکیت میں موجود فاسفورک ایسڈ 85% یا 75% والا فوڈ گریڈ ھے,
زرعی مقاصد کیلیے treated فاسفورک ایسڈ 20% زیادہ بہتر ھے, یہ سایل گریڈ فاسفورک ایسڈ کہلاتا ھے,
یہ ھماری کلراتھی زمینوں سے کلر ختم کرتا ھے, جبکہ زرخیز رقبوں کیلیے لاجواب ھے,
پاکستانی زمینوں پر کویء فاسفورسی کھاد, تی ایس پی, ڈی اے پی, ایس ایس پی, زرخیز, وغیرہ فاسفورک ایسڈ 20% ( fertile) کا مقابلہ نہیں کر سکتی, اس بات کی تصدیق تو اب نیاب فیصل آباد نے بھی کر دی ھے,
پاکستانی زمینوں کا سب سے بڑا مسلہ چونے ( کیلشیم کاربونیت) کی نقصان دہ حد تک زیادتی ھے, ھماری زمینوں کیلیے وہ کھادیں زیادہ فایدہ مند ھیں جن میں کیلشیم نہ ھو,جبکہ مروجہ تمام کھادیں کیلشیم کی حامل ھیں, ان کھادوں کو جب ھم اپنی زمینوں میں ڈالتے ھیں تو ان کا بڑا حصہ پتھر ( ترایء کیلشیم فاسفیت) بن جاتا ھے, یوں ایک تو ھماری رقم ضایع ھو جاتی ھے, دوسرے ھماری فصلوں کو فاسفورس بھی کم دستیاب ھوتی ھے,
پس فاسفورک ایسڈ 20% ھی ھماری زمینوں کیلیے سب سے بہتر فاسفورسی کھاد ھے,
Yes you can use. It is effective than DAP and SSP. DAP/SSP are slow release fertilizers while Phosphoric acid + Urea is a fast release fertilizer. In 200 litres of water add 5kg of Phosphoric acid, with 10-15 kg of Urea and flood it with 2nd irrigation of crop upto 3rd and 4th irrigation. We can save half of the urea than normal use of Urea. Urea life increases upto 7 weeks than single use of urea which is only 7 days.
Phosphoric acid a high yielding source,pakistan
http://technologytimes.pk/post.php?title=Phosphoric+acid+a+high+yielding+source

Comments
Post a Comment